مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 234 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 234

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 218 حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب کا حج حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی رضی اللہ عنہ نے 1927ء میں لندن سے واپسی پر حج کی سعادت پائی اور یہ سال سلطان ابن سعود کی حکومت کا پہلا سال بھی تھا۔حج کی سعادت کے بعد آپ نے نہایت دلچسپ داستان حج تحریر فرمائی جو کتاب الج“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔حضرت شیخ صاحب موصوف کا انداز تحریر سحر انگیز اور دل موہ لینے والا ہے۔اور جب ان کی تحریر عشق و محبت کے عطر سے ممسوح ہو اور پھر وہ عشق و محبت سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کی ہو تو اس تحریر کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔لہذا قارئین کرام کے ذوق طبع کے لئے اس کتاب سے چند اقتباسات یہاں نقل کئے جاتے ہیں جو عربوں میں تبلیغ احمدیت کا حصہ ہیں۔حضرت خدیجہ کے مکان اور قبر کی بابت مشورہ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مکان اور آپ کی قبر کی شکستگی اور خستہ حالی کو دیکھ کر آپ کے منہ سے بے اختیار نکلا: اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور کرم ہوں تجھ پر اے ام المؤمنین خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا۔ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے اس مکان کے سامنے کھڑے ہوئے میرے دماغ اور قلب میں ارتعاش تھا۔میرے دل میں ایک تلاطم پیدا ہوا۔میں نے کہا کہ کاش میں سلطان ابن سعود کی جگہ ہوتا تو اس مکان اور مزار پر ایک شاندار کتبہ نصب کرتا جس پر دنیا کی اس عظیم الشان خاتون ام المؤمنین کے کارناموں کا ایک مرقع ہوتا اور انکی قربانیوں کی تفصیل، تا کہ آنے والی نسلیں صرف احادیث اور تاریخ ہی سے اس کا علم نہ حاصل کرتیں بلکہ ہر آنے