مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 214
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول میں نے کہا: کیا آپ کے مبلغ اور مشنری لندن میں ہیں؟ اس نے کہا: سب سے پہلے وہاں ضرورت تھی۔میں نے کہا : کیا اس تبلیغ کا کچھ فائدہ بھی ہوا؟ 202 اس نے کہا: کیوں فائدہ نہ ہوتا۔سب سے پہلی مسجد انگلستان کے دارالحکومت میں ہم نے ہی تعمیر کرائی ہے۔میں نے کہا : کیا تم وہ لوگ ہو جنہوں نے وہاں مسجد بنائی یا مسلمان؟ اس نے کہا: ہم ہی وہ مسلمان ہیں۔پھر اس نے اس مسجد کے متعلق سارا واقعہ سنایا کہ وہ مسجد اس چندہ سے بنائی گئی ہے جو احمدی خواتین نے جمع کیا تھا۔اور جب المعبد الاحمدی مسجد بن کر تیار ہوگئی تو اس کے افتتاح کے لئے ایک شاندار اجتماع منعقد کیا گیا اور بادشاہ حجاز ابن سعود کے شہزادہ کو افتتاحی رسم ادا کرنے کے لئے مدعو کیا گیا۔تو اس کا باپ اس بات سے بہت خوش ہوا۔لیکن ہمارے مخالف لوگوں نے شہزادہ کو اس بات سے روکا اور کہا کہ وہ افتتاحی رسم ادا نہ کریں کیونکہ وہ ایک امر منکر ہے۔شہزادہ نے اپنے باپ کو لکھا کہ وہ اسے اس بات سے روک دے۔کیونکہ یہ معبد دے۔کیونکہ مسلمانوں کا نہیں بلکہ ایک عام عبادتگاہ ہے جس میں غیر مسلم جمع ہوا کریں گے۔اس پر ہم نے شہزداہ کو بتایا کہ یہ اس کا خیال غلط ہے۔یہ معبد تو اہل نجد کے طریق پر تعمیر کیا گیا ہے۔اور ہر اس شخص کے لئے کھلا ہے جو ایک اللہ کی عبادت کرے۔اس کلمہ نے شاہ حجاز کی طبیعت کو نرم کر دیا۔اوراس نے اپنے بیٹے کو اس مسجد کا افتتاح کرنے سے جو ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لئے بنائی گئی ہے روکنا مناسب نہ سمجھا۔اور اس نے لکھا: وہ جب چاہے وہاں جا کر خطبہ پڑھے۔لیکن شہزادہ کو جرات نہ ہوئی اور علماء سے ڈر گیا۔پھرمیں نے اس سے اس کا نام دریافت کیا تو اس نے بتایا : اس کا نام جلال الدین شمس ہے۔اور اس کی عمر 29 سال ہے۔اس نے احمدیت اپنے والد سے ورثہ میں پائی ہے۔اور وہ پیدائشی احمدی ہے۔اس نے کہا جب 25 سال کی عمر میں وہ مبلغ ہو کر شام میں آیا تو وہاں کے علماء اور امراء اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوئے۔اور انہوں نے کوشش کی کہ اسے شام سے جلا وطن کیا جائے۔لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔اور وہ وہاں دو سال رہا۔اور 50 کے قریب احمدی بنائے جو تمام کے تمام احمد اسیح کی نبوت پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔