مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 199
187 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول تک مجھے شہر میں اکیلے چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تھا۔اور ان لوگوں نے فتویٰ دے دیا کہ اس ہندی سے ملنا، بات کرنا، اس کی کتابیں پڑھنا حرام ہے اور اس کا قتل جائز ہے۔جس ہوٹل میں میں رہتا تھا اس کے سامنے پہرہ لگا دیا گیا تا کوئی میرے پاس نہ آئے۔جو آنے کی کوشش کرتا اسے بزور روک دیا جاتا لیکن باوجود ان روکوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا تھا۔ان کے سینوں کو کھول کر میرے پاس لے آتا تھا۔(رپورٹ مجلس مشاورت 1929ء صفحہ 176 بحوالہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی جلد اوّل صفحہ 212-213) ان ناخوشگوار حالات اور مشکلات میں حیفا کے مکینوں میں سے صرف ایک محترم دوست محمد نوام ابو فوزی تھے جو اس مخالفت کے تند سیلاب میں بلا ناغہ مولوی صاحب کے پاس آتے رہے اور تمام مخالفتوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہے۔محترم خلیل محمد نوام ابو فوزی صاحب دمشق کے پہلے احمدی مصطفی نو یلاتی صاحب کے غیر احمدی دوست تھے جو فلسطین میں رہتے تھے۔جب حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس فلسطین تشریف لائے تو اس سے قبل ہی مصطفی نو یلاتی صاحب نے ابو فوزی صاحب کو خط لکھ دیا تھا اور مولانا شمس صاحب کے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔چنانچہ فلسطین پہنچنے پر یہ دوست مولانا شمس صاحب کو باصرارا اپنے گھر لے گئے اور اپنے ہاں مہمان ٹھہرایا۔چند دن کے بعد یہ دوست سلسلہ میں داخل ہو گئے۔اس کے بعد دو اور اشخاص جو ان کے دوستوں میں سے تھے ، بھی احمدیت میں داخل ہو گئے۔(ماخوذ از مرجع سابق) یمن کے ایک ابتدائی احمدی الحاج محمد بن محمد المغر بی سے ملاقات آپ کا اصل نام الحاج محمد بن محمد منصور ریاقات المغر بی تھا۔آپ مراکش ( جسے عربی میں المغرب کہتے ہیں اور اسی کی نسبت سے آپ المغر بی کہلائے ) میں ” مکناس نامی ایک جگہ کے رہائشی تھے۔مکرم مولا نا چوہدری محمد شریف صاحب سابق مبلغ بلا دعر بیہ ان کے بارہ میں لکھتے ہیں: آپ نے حج کے لئے جانے والے قافلہ کے ہمراہ بیت اللہ الحرام کا قصد کیا اور تمام سفر کبھی اونٹ پر سواری کرتے ہوئے اور کبھی پیدل طے کیا۔آپ نے کل 17 مرتبہ حج کیا۔ملکہ