مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 198
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 186 کرنا چاہتا ہے۔چنانچہ آپ کو فساد کے اندیشہ سے مجبورا دوسرے مکان میں منتقل ہونا پڑا۔فلسطین میں تبلیغ میں مشکلات فلسطین میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی مخالفت کی وجہ سے تبلیغ کی راہ میں حائل ہونے والی مشکلات کے علاوہ اس زمانہ میں وہاں کے عرب اخلاقی اور دینی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھے اور ایسے حالات میں تبلیغ کے کام میں کامیابی کا حصول بہت مشکل امر تھا۔اس حالت کا نقشہ اس زمانے کی ایک رپورٹ میں بڑے سادہ انداز میں کی ہے جسے نذر قارئین کیا جاتا ہے۔د فلسطین میں اکثر آبادی مسلمانوں کی ہے اور ان کے دو طبقے ہیں ، قدامت پسند اور تعلیم یافتہ۔اوّل الذکر فریق مشائخ کے زیر اثر ہے اور پرانے خیالات کی کورانہ تقلید کر رہا ہے۔اور مؤخر الذکر گروہ دہریت، الحاد اور مغرب پرستی میں غرق ہونے کے علاوہ علم دین سے ہی بیزار ہے۔مزید برآں یہ ہے کہ ہر دو فریق عربی النسل ہونے کے باعث باوجود اپنی جہالت کے عجم سے گو نہ نفرت رکھتے ہیں۔گویا عربیت جاتی رہی ہے۔نہ دین ہے نہ اخلاق ہیں۔نہ زبان صحیح ہے مگر غرور ، نخوت ، اور تکبر بے انداز۔عیسائی آبادی کے لحاظ سے دوسرے درجہ پر ہیں۔مگر دہریت اور اسلام دشمنی میں اوّل نمبر پر۔اور طرفہ یہ کہ ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے دوست ہیں۔یہودی بالکل جمود کی حالت میں ہیں۔نو جوانوں میں حرکت ہے مگر دہریت اور شیوعیت کی طرف۔“ ( رپورٹ سالانہ 32-1931ء صفحہ 8 بحوالہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی جلد اول صفحہ 210-211 ) ان حالات میں سعید روحیں جب حضرت مولوی صاحب کی طرف مائل ہونا شروع کی ہوئیں اور پاک طینت وجود احمدیت کو بنظر استحسان دیکھنے لگے تو ملاؤں نے مخالفت شروع کر دی۔اور مختلف مناظرات میں اپنی شکست کو محسوس کر کے لوگوں کو مولوی صاحب کے خلاف بھڑ کا نا شروع کر دیا، اور سلسلہ احمدیہ کی طرف بے سروپا باتیں منسوب کر کے لوگوں کو اس سے بدظن کرنا شروع کر دیا۔اس بارہ میں حضرت مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ: ” مشائخ کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں سے لوگ اس درجہ مشتعل ہو چکے تھے کہ دو تین ماہ