مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 136
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 128 حضرت ولی اللہ شاہ صاحب کا اعزاز حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے 1914ء میں بیروت میں عربی زبان کے ماہر اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جن میں سے ایک مشہور استاد الشیخ صلاح الدین الرافعی تھے۔ان سے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں احمدیت کی تبلیغ بھی کی۔الشیخ } صلاح الدین الرافعی آپ کے اخلاق اور شخصیت سے بہت متاثر ہوئے اور دعوت احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی۔چنانچہ اس مناسبت سے انہوں نے ایک دعوت کا اہتمام کیا جس میں حضرت شاہ صاحب کے علاوہ بیروت سے معززین کی ایک جماعت کو بھی مدعو کیا اور ان کے سامنے اپنے احمدیت میں داخل ہونے کا اعلان کیا۔اس کے بعد پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔پہلی جنگ عظیم سے قبل عثمانیوں نے اسلامی ممالک میں عیسائیت کی یلغار اور اس کے بالمقابل کسی بھی اسلامی ملک کی اسلام کے دفاع کے کام میں ست روی اور کسی دینی جماعت کے اس مقصد کے لئے کھڑے نہ ہونے کو بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا۔جب ترکی اس عالمی جنگ میں شامل ہوا تو بلا دشام کی قیادت جمال پاشا نامی قائد کو سونپی گئی جس نے قدس شریف میں ایک دینی کالج قائم کیا جس کا نام ” کلیۃ صلاح الدین الایوبی“ رکھا جو کہ ” الکلیۃ الصلاحیۃ“ کے نام سے مشہور ہوا۔اس کالج کے قیام کا بنیادی مقصد دین اسلام کی تبلیغ کے لئے لوگ تیار کرنا تھا۔چنانچہ اس کالج کے لئے جمال پاشا نے اس وقت کے بڑے بڑے علماء کو استاد کے طور پر رکھا جیسے الشیخ ہاشم الشریف الخلیل البیروتی، علامہ الشیخ بشیر الغربی الحکمی ترکی پارلیمنٹ کے ممبر، الشیخ صالح الرافعی ، عبد العزیز جاولیش ، رستم حیدر، عبد القادر المغربی ، جودت الہاشمی وغیرہ۔اور اس کالج میں تاریخ ادیان