مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 123 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 123

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 117 اس دہشت ناک حالت کے بعد آسمان پر ایک روشنی پیدا ہوئی اور نہایت موٹے اور نورانی الفاظ میں آسمان پر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله لکھا گیا۔میں نے میر صاحب سے پوچھا : آپ نے یہ عبارت نہیں دیکھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔میں نے کہا کہ ابھی آسمان پر یہ عبارت لکھی گئی ہے۔اس کے بعد کسی نے بآواز بلند کچھ کہا جس کا مطلب یا د رہا کہ آسمان پر بڑے بڑے تغیرات ہو رہے ہیں جس کا نتیجہ تمہارے لئے اچھا ہوگا۔اس کے بعد اس نظارہ اور تاریکی اور شور کی دہشت سے آنکھ کھل گئی۔واللہ اعلم بالصواب۔حج کے بعد مکہ معظمہ سے قادیان واپسی اور بعض مخالفین کا انجام حج میں آپ نے اسلام احمدیت اور اہل قادیان کے لئے بیشمار دعائیں کیں۔حج کے بعد آپ کا ارادہ کچھ عرصہ اور اس مقدس سرزمین پر قیام کرنے کا تھا مگر ایک تو آپ بیمار ہو گئے دوسرے حج ختم ہوتے ہی مکہ میں ہیضہ پھوٹ پڑا۔جو اتنا شدید تھا کہ لوگ گلیوں میں مُردوں کو پھینک دیتے تھے اور دفن کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملتا تھا۔یہ دیکھ کر حضرت نانا جان گھبرا گئے۔اور انہوں نے کہا ہمیں جلدی واپس چلنا چاہئے۔چنانچہ آپ نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔آخری ملاقات کے لئے جب اس غیر احمدی ماموں کی طرف گئے تو معلوم ہوا کہ منی سے واپسی پر وہ ہیضہ کے حملہ کی تاب نہ لا کر تھوڑی دیر میں ہی فوت ہو گئے ہیں۔جب آپ جدہ پہنچے تو جدہ کے انگریزی قونصل خانہ میں بھی آپ کے ننھیال کے ایک رشتہ دار تھے۔آپ ٹکٹ کے لئے ان کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آپ کو کمپنی کا ملازم سمجھ کر بڑی لجاجت سے کہا کہ ہمارا قافلہ تمیں بہتیں عورتوں اور مردوں پر مش اور اس وقت سخت مصیبت کا سامنا ہے۔مگر ہمیں سب سے زیادہ فکر عورتوں کا ہے۔ہیضہ کی وجہ سے عورتیں تو پاگل ہورہی ہیں۔اگر آپ دس بارہ ٹکٹ خرید دیں تو ہم عورتوں کو یہاں سے رخصت کر دیں۔آپ نے فرمایا: عورتیں اکیلی کس طرح جائیں گی ؟ اس پر اس نے کہا : آپ دو چار اور ٹکٹ لے دیں تو کچھ مرد بھی ان کے ساتھ جاسکیں گے۔اور ساتھ ہی ہے