مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 90
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 86 ایک ایسی کتاب جس کے بارہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس قدر بشارتیں ملی ہوں کیسے ممکن ہے کہ کسی کو اس کا جواب لکھنے کی توفیق نصیب ہو۔لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ اس میں وجہ اعجاز کیا تھا۔وجہ اعجاز اعجاز اسیح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا کی تائید سے سورہ فاتحہ کی تفسیر عربی زبان میں تحریر فرمائی۔اور اس کے بالمقابل کتاب لکھنے کی مدت مقرر کی اور اس عرصہ میں اس کا جواب لکھنے والوں کو انعام واکرام کا وعدہ بھی کیا۔اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے یہ کتاب اس وقت لکھی جبکہ باوجود التبلیغ اور حمامۃ البشری جیسی اعجازی تصانیف کے بھی آپ کو اس بات کے طعنے دیئے گئے کہ آپ تو قرآن کی زبان سے ہی نابلد ہیں اور محض جھوٹے اور مفتری ہیں۔اس سارے پس منظر میں اگر کوئی شخص کتاب لکھے اور پہلے سے ہی اسی کتاب میں ہی اعلان کر دے کہ اگر تمہارے بڑے چھوٹے عالم وادیب، عربی و غیر عربی ، سب جمع ہو جا ئیں اور اس جیسی کتاب لکھنے کی کوشش کریں تب بھی کامیاب نہیں ہوں گے ، اور پھر ایسا ہی ہو جائے اور کوئی اس کا جواب نہ لکھ سکے تو پھر ہر ذی عقل کو یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ واقعی یہ ایک معجزہ ہے اور وہ ہاتھ جس نے حق کے دشمنوں کو اس کا جواب لکھنے سے روکے رکھا ضرور اُسی خدا کا ہاتھ تھا جس نے مسیح موعود علیہ السلام کو یہ بشارت دی تھی کہ یہ لا جواب کتاب ہے اور کوئی اسکا جواب لکھنے کی سکت نہ پائے گا۔امام غزالی اپنی کتاب "الاقتصاد فی الاعتقاد میں لکھتے ہیں کہ : اگر کوئی نبی یہ کہے کہ میری سچائی کا نشان یہ ہے کہ آج میں اپنی اس انگلی کو حرکت دوں گا اور اس کے بعد کوئی میری مخالفت کی جرات نہیں کرے گا۔پھر اگر اس دن کوئی اس کی مخالفت نہ کرے تو اس نبی کی سچائی ثابت ہو گئی۔اعتراضات منکرین شاید کہ قارئین کرام یہ جاننا چاہیں گے کہ جن مخالفین نے اعجاز مسیح کے معجزے کو نہ مانا انہوں نے کیا دلیلیں پیش کیں۔ہم ذیل میں صرف عرب مخالفین کے کلام کے حوالے سے