مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 89
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 85 ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ سے الہام پا کر اس کتاب میں کی لکھ چکے تھے کہ: میں نے اس کتاب کے لئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسے علماء کے لئے معجزہ بنائے اور کوئی ادیب اس کی نظیر لانے پر قادر نہ ہو۔اور ان کو لکھنے کی توفیق نہ ملے۔اور میری یہ دعا قبول ہوگئی۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی اور کہا : مَنَعَهُ مَانِعٌ مِنَ السَّمَاءِ کہ آسمان سے ہم اسے روک دیں گے۔اور میں سمجھا کہ اس میں اشارہ ہے کہ دشمن اس کی مثل لانے پر قادر نہیں ہوں گے۔( خلاصه عربی عبارت اعجاز اسیح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 68-69) اسی طرح اس کتاب کے سرورق پر آپ نے بطور تحدی فرمایا کہ: فَإِنَّهُ كِتَابٌ لَيْسَ لَهُ جَوَابٌ وَمَنْ قَامَ لِلْجَوَابِ وَتَنَمَّرَ فَسَوْفَ يَرَى أَنَّهُ تَنَدَّمَ وَتَذَمَّرُ یعنی یہ ایک ایسی کتاب ہے جسکا کوئی جواب نہیں ہے اور جو شخص بھی غصہ میں آکر اس کتاب کا جواب لکھنے کے لئے تیار ہو گا وہ ندامت وحسرت کا شکار ہو کر رہ جائیگا۔اسی طرح فرمایا: میرا یہ رسالہ خدا تعالیٰ کے نشانات میں سے ایک نشان ہے۔۔۔۔اور یہ میرے رب کی طرف سے حجت قاطعہ اور برہان مبین ہے تا کہ جھوٹ بولنے والوں کو ان کے گناہ کا کسی قدر بدلہ دے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان هذا الكلام كأنه حسام) یہ کلام ایسے ہے جیسے کہ نشانے پر لگنے والا تیر۔اس نے تمام جھگڑوں کا خاتمہ کر دیا ہے اور اس کے بعد کوئی نزاع نہیں رہا۔اور جو کہتا ہے کہ وہ فصیح ہے اور اس کا کلام مثل بدر تام ہے تو اسے چاہئے کہ اس کتاب کی نظیر لکھ لائے اور ہرگز خاموش نہ بیٹھا رہے کیونکہ اس معاملہ میں خاموشی حرام ہے۔لیکن اگر تمہارے آباء واجداد اور تمہارے بیٹے اور تمہارے ساتھی اور تمہارے علماء وحكماء وفقہاء سب مل کر بھی اس جیسی تفسیر مقررہ مختصر مدت میں لانے کے لئے جمع ہو جائیں تب بھی وہ اس کی نظیر نہیں لاسکیں گے چاہے جس قدر بھی وہ ایک دوسرے کی مددومعاونت کر لیں۔کیونکہ میں نے اس امر کے لئے دعا کی تھی اور میری دعا قبول ہوگئی ، لہذا اب اس کا جواب نہ تو کا تب یا ادیب لکھ سکے گا نہ کوئی بوڑھا نہ جوان۔(ترجمه عربی عبارت اعجاز لمسیح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 56-57)