مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 7
خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (7) بیوی پر آوازہ کسا تھا۔( اونچی آواز سے بولے تھے ) اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگِ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے“۔( اونچی آواز میں بولے تھے اور خیال کیا کہ شاید اس میں دل کا کوئی رنج بھی شامل ہے ) ” اور بایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا“۔(اس کے علاوہ کوئی سختی کا کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا لیکن اس کے باوجود بھی ) آپ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتارہا اور بڑے خشوع وخضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے۔“ (ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ 1-2۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان ) پس یہ ہے نمونہ آپ کا۔اور پھر کسی دوست کے سختی سے پیش آنے پر آپ نے بڑی فکر اور درد کا اظہار کیا اور یہ نصیحت بھی فرمائی کہ وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ذرا ذراسی بات پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کو کچھ ہوش کرنی چاہئے۔یہ ہاتھ اٹھانا تو خیر علیحدہ رہا جیسا کہ میں نے کہا کہ زخمی بھی کر دیتے ہیں۔ان کے لئے تو بہت ہی فکر کا لمحہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق تو ان لوگوں کا پھر ایمان بھی کامل نہیں ہے۔ان کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جوارشاد تھا اسی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی فکر ہوئی کہ جس کے ایمان کا وہ اعلیٰ معیار نہیں ہے پھر تو وہ کئی جگہ ٹھوکر کھا سکتا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ بظاہر چھوٹی نظر آنے والی باتیں ہیں لیکن یہ چھوٹی نہیں ہیں۔ان ملکوں میں تو پولیس تک معاملے چلے جاتے ہیں اور پھر جماعت کی بدنامی ہوتی ہے۔ایسے لوگ پھر دنیا وی سزا بھی بھگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی بھی مول لیتے ہیں۔