مردانِ خدا

by Other Authors

Page 43 of 97

مردانِ خدا — Page 43

مردان خدا ۴۳ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی والد صاحب کی درخواست اور حضور کا فیصلہ قریباً نصف گھنٹہ تک حضور نے والد صاحب کے معروضات نہایت توجہ سے سنے اور دوران گفتگو میں حضور ٹہلتے رہے۔کہیں کہیں ان کی دلجوئی اور تسلی کیلئے بعض ناصحانہ فقرات فرماتے اور بعض غلط خیالات کا ازالہ بھی فرماتے رہے۔جب میرے والد صاحب دل کھول کر سب کچھ عرض کر چکے تو سید نا حضرت اقدس نے مجھے الگ لیکر جا کر پوچھا۔”میاں عبد الرحمن تمہاری کیا مرضی ؟“ چونکہ والد صاحب کے ساتھ میں بھی حضرت کے ساتھ ساتھ ٹہلتا اور تمام باتیں سنتا رہا اور ان کی غرض و غائت اور مقصود کا مجھے علم ہو چکا تھا۔میں نے نہایت ادب سے حضرت کے حضور عرض کیا۔حضور میں دل سے (احمدی) ہوں اور حضور کی غلامی کی سعادت اللہ پاک نے مجھے محض اپنے فضل سے بخش دی ہے۔بے شک والدین اور بھائی بہنوں کی محبت میرے دل میں بے حد ہے۔مگر میں ابھی جانا نہیں چاہتا کیونکہ میں نے (دین) کے متعلق کچھ بھی نہیں سیکھا۔“ میری یہ عرض سن کر حضور نے میرے والد صاحب کو بلا کر فرمایا:۔ہم ابھی عبدالرحمن کو آپ کے ساتھ نہیں بھیج سکتے۔بہتر ہے کہ آپ کو اگر فرصت ہو تو ہفتہ دو ہفتہ ان کے پاس ٹھہریں اور اگر آپ ملازمت کی وجہ سے نہ ٹھہر سکیں تو ان کی والدہ اور بھائی بہنوں کو یہاں بھیج دیں۔وہ ان کے پاس جتنا عرصہ چاہیں ٹھہریں ان کی آمد و رفت اور بودوباش کے اخراجات ہمارے ذمہ ہوں گے۔“ حضور یہ جواب دیکر اندر تشریف لے گئے۔ظہر کی اذان ہو چکی یا ہونے والی تھی