مردانِ خدا — Page 42
مردان خدا ۴۲ حضرت بھائی جی عبد الرحمن صاحب قادیانی والد صاحب کی آمد۔واپس لے جانے کا پروگرام اٹھا استغفار کیا اور وضو کر کے دو چار نفل پڑھے ہوں گے کہ صبح کی اذان ہوگئی۔صبح کی نماز ادا کی اور واپس آ کر اپنا قرآن شریف جو کہ حضرت اقدس کے کتب خانہ میں پیر جی سراج الحق صاحب کے پاس ( مطب کے شمال مشرقی کونہ کی کوٹھڑی) رکھا تھا لیکر اپنی چٹائی اٹھانے کو تھا تا مطب کے اوپر چھت پر جا کر تلاوت کروں کہ پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی مجھ سے فرمانے لگے۔”میاں عبدالرحمن ! ہمارا ایک کام تو کر دو اور ساتھ ہی ایک منی آرڈر فارم اور کچھ روپے دیکر فرمایا۔یہ منی آرڈر کر آؤ۔جب میں ڈاک خانہ پہنچا اور اس کے کھلے دروازہ کے سامنے کھڑا ہوا تو دیکھتا ہوں کہ میرے والد صاحب اس آریہ ماسٹر کے پہلو میں بیٹھے ہیں۔میں اس نظارہ سے جو اچانک پیش آیا ایک سکتے کے عالم میں تھا اور طبیعت نے ابھی فیصلہ نہ کیا تھا کہ قدم آگے اٹھاؤں یا پیچھے کہ والد صاحب مجھے دیکھتے ہی کھڑے ہو کر میری طرف بڑھے اور مجھ سے لپٹ گئے۔چھاتی سے لگایا اور پیار کیا، دلا سا دیا اور میری تسلی کیلئے فرمانے لگے۔”بیٹا تم نے جو کچھ کیا اچھا کیا۔جب تمہارے دل کو یہی بات پسند ہے تو کون روک سکتا ہے۔خوش رہو اور جہاں چاہو رہو۔مگر تم گھر سے آئے پھر اطلاع نہ دی۔ہم لوگ تمہاری تلاش میں سرگردان پھرے۔سینکڑوں روپیہ برباد ہوا۔تمہاری ماں روتے روتے اندھی ہوگئی اور تمہارے عزیز بھائی، بہنیں جدائی کی وجہ سے بیتاب اور نیم جان ہیں۔ایک مرتبہ چل کر ماں کومل لوشائد ان کی بینائی بچ جائے اور بھائی بہنوں کو پیار کر لو کہ وہ تمہارے نام کو ترستے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔میں اچانک والد صاحب کی گرفت میں آجانے کی وجہ سے ابھی پریشان اور بالکل خاموش تھا۔چند منٹ بعد سنبھلا تو عرض کیا چلیں‘ ( چنانچہ وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے)