مردانِ خدا

by Other Authors

Page 27 of 97

مردانِ خدا — Page 27

مردان خدا حضرت مولانا شیر علی صاحب کا باقی نہیں چھوڑتے۔پھر جب وہ یہاں ملازم ہوئے ہیں ان کا نام منصفی میں جاچکا تھا“۔(الفضل ۱۴ جنوری ۱۹۲۷ء) دنیا سے بے نیاز ولی اللہ آپ کی فقیرانہ زندگی اور محض اللہ ہر قسم کی دنیوی چمک دمک کی قربانی پر روشنی ڈالنے والا ایک واقعہ محترم جناب ملک غلام فرید صاحب اس طرح بیان کرتے ہیں۔کئی سال ہوئے میاں محمد شفیع صاحب جو ہمیش“ کے نام سے اخبارات میں مضمون لکھتے ہیں ہمارے سالانہ جلسہ کی رپورٹ لینے کیلئے قادیان گئے اور میرے پاس ٹھہرے۔جب ہم جلسہ گاہ میں آئے تو میاں صاحب موصوف مجھ سے کہنے لگے ملک صاحب! کوئی ولی اللہ دکھلائیں۔میں نے کہا ہمارے نزدیک سب سے بڑے ولی اللہ تو ہمارے امام ہی ہیں۔ان کو آپ نے دیکھ ہی لیا ہے کہنے لگے کہ ہاں وہ تو ہوئے لیکن پھر بھی میں کسی فقیر ولی اللہ کو دیکھنا چاہتا ہوں میں اُن کے مطلب کو سمجھ گیا وہ اتنا کہنے ہی پائے تھے کہ حضرت مولوی شیر علی صاحب ہمارے پاس سے گزرے آپ اُس وقت اپنے کندھے پر ایک موٹا کھر درا بھورے رنگ کا کمبل ڈالے ہوئے تھے۔میں نے کہا یہ ہمارے مولوی شیر علی صاحب ہیں۔۱۹۰۲ء میں گریجویٹ ہوئے یورپ میں تین سال رہ آئے ہیں۔انگریزی زبان کے بڑے ماہر ہیں برسوں رسالہ ریویو انگریزی کے ایڈیٹر رہے ہیں اور اب قرآن کریم کا انگریزی میں ترجمہ کر رہے ہیں۔میاں صاحب موصوف کہنے لگے میں ایسے ہی فقیر کو دیکھنا چاہتا تھا۔جب تک مولوی صاحب ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئے ان کی نظر مولوی صاحب کا تعاقب کرتی رہی۔ملک نذیر احمد ریاض: سیرت حضرت مولانا شیر علی صاحب: ص: ۵۷،۵۶) آپ کی منکسر المزاجی اور بے نفس خدمت کا ایک واقعہ مکرم ڈاکٹر محمد عبداللہ صاحب قلعہ