مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 74
(<) آیت اولی۔اللہ تعالیٰ سُورہ نساء میں فرماتا ہے:۔مقام خاتم انا وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَحَسُنَ أُولئِكَ رَفِيقًا۔(سوره نساء آیت ۷۰) ترجمہ: جولوگ اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کریں گے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے درجہ پانے میں انعام یافتہ لوگوں یعنی نبیوں صدیقوں شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہیں۔اور یہ اطاعت کرنے والے اُن کے اچھے ساتھی ہیں ( یعنی درجہ پانے میں ساتھی ہیں) آیت ہذا میں مع کا لفظ استعمال ہوا ہے۔فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ چونکہ جملہ اسمیہ ہے جو استمرار پر دلالت کرتا ہے۔لہذا اس دُنیا میں اللہ تعالے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والوں کی پہلے انعام یافتہ لوگوں سے درجہ میں معیت ضروری ہے۔کیونکہ اس دُنیا میں ظاہری معنیت جو زمانی اور مکانی ہوتی ہے۔اُن لوگوں کو پہلے انعام یافتہ لوگوں سے حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے اس آیت میں معنوی معیت ہی مُراد ہو سکتی ہے جو درجہ اور مرتبہ کے لحاظ سے ہوتی ہے۔جیسے کہ ذیل کی آیت میں معیت درجہ میں ہی مراد ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ فِى القِرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا إِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَأَصْلَحُوْا وَاعْتَصِمُوْا بِاللَّهِ وَ اَحْلَصُوْا دِيْنَهُمْ لِلَّهِ فَأُولئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ۔(سورہ نساء آیت ۱۴۶ - ۱۴۷)