مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 73
(۷۳) مقام خاتم النی بموجب احادیث نبویہ امت محمدیہ میں مسیح موعود کا امتی اور نبی ہونا تسلیم کرتے ہیں تو امتی موت کا حدوث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُن کے عقیدہ کی رُو سے ممکن بلکہ ضروری ہوا۔فتدبّروا يا اولى الالباب۔آیات قرآنیہ سے خاتمیت مرتبی اور زمائی کا ثبوت الْقُرْآنُ يُفَسِرُ بَعْضُهُ بَعضًا کے مطابق قرآن مجید کی ایک آیت کی تفسیر دوسری آیات کر دیتی ہیں۔آپ معلوم کر چکے ہیں۔آیت خاتم النبیین کے رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دو قسم کی خاتمیت کا مقام حاصل ہے۔اول خاتمیت مرتبی جو خاتم النبیین کے مثبت حقیقی اور مقدم معنی ہیں۔دوم خاتمیت زمانی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی ظہور پر خاتمیت مرتبی کولا زم ہوئی ہے۔خاتمیت زمانی کا ثبوت آیت کریمہ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائده) اور آیت کریمہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ ( الحجر ۱۰) سے ملتا ہے۔پہلی آیت بتاتی ہے کہ قرآن مجید کے ذریعہ شریعت اپنے کمال کو پہنچ گئی ہے اور دوسری آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شریعت کی حفاظت کا خُدا تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔لہذا قیامت تک اب کسی تشریعی نبی کی ضرورت نہیں۔اور یہی مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت زمانی کا ہے۔کہ آپ آخری تشریعی نبی ہیں جو خاتمیت مرتبی کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے۔اب آئیندہ کے لئے خاتمیت مرتبی کی تاثیر کے متعلق آیات قرآنیہ ملاحظہ ہوں