مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 58 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 58

۵۸ وَتَارَةً فِي تَحْصِيْلِ أَثْرٍ عَنْ شَيْءٍ اِعْتِبَارًا بِالنَّقْشِ الْحَاصِلِ وَتَارَةً يُعْتَبَرُ مِنْهُ بُلُوْعُ الْآخِرِ مِنْهُ خَتَمْتُ الْقُرْآنَ أَي انْتَهَيْتُ إِلَى اخره۔(مفردات القرآن للامام الراغب زير لفظ ختم) یعنی ختم اور بطع کی دو صورتیں ہیں۔( پہلی صورت جو حقیقی لغوی معنی کی صورت ہے یہ ہے کہ یہ حسمْتُ اور طَبَعْت کا مصدر ہیں۔جس کے معنی تاثیر الشئ ( یعنی دوسری شئے میں اثرات پیدا کرنا ) ہیں جیسا کہ خاتم (مہبر ) کا نقش دوسری چیز میں اپنے نقش و اثرات پیدا کرتا ہے۔اور دوسری صورت ( جو مجازی معنی ہیں ) اس نقش کی تاثیر کا اثر حاصل ہے۔اور یہ لفظ مجاز اکبھی تو ختم على الكتب والابواب ( کتابوں اور بابوں پر مُہر لگنے ) کے لحاظ سے شی ء کی بندش اور روک کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَخَتَمَ عَلَىٰ قَلْبِهِ وَسَمْعِهِ ( میں اس کا استعمال مجازی معنوں میں ہوا ہے ) اور کبھی اس کے مجازی معنی نقش حاصل کے لحاظ سے کسی شئے سے تحصیل اثر ہوتے ہیں۔اور کبھی اس کے مجازی معنی آخر کو پہنچنا ہوتے ہیں اور انہی معنوں میں ختمت القرآن کہا گیا ہے کہ تلاوت قرآن میں اس کے آخر تک پہنچ گیا۔لغت کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ ختم اور طبع کے حقیقی لغوی معنی مُہر کے نقش کرنے کی طرح تاثیر الشی ہیں۔انہیں حقیقی لغوی معنی کے لحاظ سے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بمعنی نبیوں کے لئے نبوت