مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 57 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 57

مقام خاتم انا پھر تو مولا ناموصوف کا یہ قول کا ذب ٹھہرتا ہے کہ وو بالفرض اگر بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔( تحذیر الناس صفحہ ۲۸) کیونکہ اگر خاتمیت زمانی کا یہ مفہوم مراد ہو کہ کوئی نبی پیدا نہیں ہوسکتا تو اس قول کا صریح طور پر کا ذب ہونا لازم آئے گا کہ اگر کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔فرق کیوں نہیں آئے گا۔خاتمیت زمانی علی الاطلاق پھر قائم نہ رہے گی۔پس خاتمیت زمانی کا یہی مفہوم قرار دینے سے اُن کا قول سچا ٹھہرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے بعد کوئی شارع اور مستقل نبی نہیں آسکتا۔خاتم النبیین کے حقیقی لغوی معنی ہم حیران ہیں کہ کوئی عالم دین خاتمیت مرتبی کو کس طرح خطبہ کی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے جبکہ خاتمیت مرتبی خاتم النبیین کے حقیقی لغوی معنے ہیں۔چنانچہ مفردات راغب میں جو قرآن مجید کی مستند لغت کی کتاب ہے۔ختم اور طبع کو دو ہم معنی مصدر قرار دے کران کے معنوں کے متعلق صاف لکھا ہے:۔الْخَتْمُ وَالطَّبْعُ يُقَالُ عَلَى وَجْهَيْنِ مَصْدَرُ خَتَمْتُ وَطَبَعْتُ وَهُوَ تَاثِيرُ الشَّيْءِ كَنَفْشِ الْخَاتَمِ وَالطَّابِعِ الثَّانِي الْأَثَرُ الْحَاصِلُ مِنَ النَّقْشِ وَيُتَجَوَّزُ بِذلِكَ تَارَةً فِي الْإِسْتِشَاقِ مِنَ الشَّيْءِ وَالْمَنْعِ مِنْهُ اِعْتِبَارًا لِمَا يَحْصُلُ مِنَ الْمَنْعِ بِالْخَيْمِ عَلَى الْكُتُبِ وَالْأَبْوَابِ نَحْوَ خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوْبِهِمْ وَخَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ