مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 46
مقام خاتم است وسلم کے بعد کوئی نیا دین لانے والا نبی یعنی تشریعی نبی نہیں آسکتا۔پھر مولا نا موصوف آگے لکھتے ہیں کہ اگر بالفرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے انبیاء کا دین جو وہ لاتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے مخالف نہ ہوتا تو اس صورت میں ان کا وہ دین جو وہ لاتے علوم محمدی پر ہی مشتمل ہوتا تو شریعت محمدیہ کے متعلق آیت کریمہ إِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ کے مطابق ان تشریعی انبیاء کی کیا ضرورت تھی۔یعنی کوئی ضروت نہ تھی۔اور بلا ضروت خدا تعالیٰ کسی شریعت کو بھیجتا نہیں۔لہذا ایسا تشریعی نبی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔پھر فرماتے ہیں کہ اگر بعد آنے والے انبیاء کے علوم علوم محمدی سے علاوہ ہوتے تو اس سے قرآن شریف کا تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ ہونا باطل ہو جاتا۔اور یہ محال ہے۔لہذا ایسا تشریعی نبی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا تھا۔پس اس مضمون کے خاتمہ پر مولانا موصوف کا یہ فرمانا ایسے ہی ختم نبوت بمعنی معروض کو تا فخر زمانی لازم ہے۔“ صرف یہی مفہوم رکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریعی نبی کی آمد کے محال ہونے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت مرتبی وذاتی کو جو خاتمیت زمانی کا معروض یعنی ملزوم ہے تاخر زمانی لازم ہے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے شریعت کا ملہ تامہ لانے کی وجہ سے نہ شریعت محمدیہ کے مخالف کوئی نئی شریعت آسکتی ہے اور نہ اس کے موافق کوئی نئی شریعت آسکتی ہے۔پس تاخر زمانی لازم آنے سے صرف یہ مُراد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں آسکتا۔نہ شریعت محمدیہ کے مخالف نئی شریعت والا نہ شریعت محمدیہ کے موافق نئی