مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 10 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 10

(I۔) مقام خاتم پس حیات مسیح کا عقیدہ مسلمانوں میں عیسائیوں کے ذریعہ پھیلا ہے اور اب بڑے بڑے علماء مصر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کو پڑھنے کے بعد وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہو چکے ہیں۔علامہ رشید رضا کی طرح علامہ محمود شلتوت منتظم اعلی از ہر یونیورسٹی مصر نے بھی وفات مسیح کا فتویٰ دیا ہے۔وہ وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق مفصل بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں:۔” إِنَّهُ لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ وَلَا فِي السُّنَّةِ الْمُطَهَّرَةِ مُسْتَنِدٌ يَصْلُحُ لِتَكْوِيْنِ عَقِيْدَةٍ يَطْمَئِنُّ إِلَيْهَا الْقَلْبُ بِأَنَّ عِيْسَى رُفِعَ بِجِسْمِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَأَنَّهُ إِلَى الْأَن فِيْهَا وَأَنَّهُ سَيَنْزِلُ مِنْهَا فِي آخِرِ الزَّمَان إِلَى الْأَرْضِ۔، ترجمه الرساله مورخها ارمنی ۱۹۴۲ء القاہره والفتاوی مطبوعہ مصر ) قرآن مجید اور سنت مطہرہ ( نبویہ ) میں کوئی ایسی سند موجو د نہیں جس سے اس عقیدہ پر دل مطمئن ہو سکے کہ حضرت عیسی اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے گئے۔اور اب تک وہ آسمان پر زندہ ہیں اور یہ کہ وہی آخری زمانہ میں آسمان سے زمین کی طرف نازل ہوں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ اب علمائے اسلام رفتہ رفتہ اس سچائی کو قبول کرتے جارہے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔پرانے بزرگوں میں سے امام مالک کا مذہب یہ لکھا ہے:۔