مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 253
۲۵۳ مقام خاتم است اس سے ظاہر ہے کہ میرے نزدیک پہلی عبارت امام راغب کی نہیں بلکہ خود فاضل اندلسی کی ہے۔جیسا کہ میرے استدلال کے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس عبارت میں امام راغب نے النبي بالنبی کہہ کر ظاہر کر دیا ہے کہ اس اُمت کا نبی گزشتہ انبیاء کے ساتھ شامل ہو جائے گا جس طرح اس اُمت کا صدیق گزشتہ صدیقوں اور اس اُمت کا شہید گزشتہ شہیدوں اور اس اُمت کا صالح گزشتہ صالحین کے ساتھ شامل ہوگا۔گویا اُن کی تفسیر کے مطابق امت محمدیہ کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ورنہ کونسے نبی ہوں گے جو امام راغب کی تفسیر کے مطابق نبیوں میں شامل ہوں گے۔( علمی تبصره صفحه ۹) (ب) مولوی خالد محمود صاحب کا یہ خیال بالکل باطل ہے کہ فاضل اندلسی کے نزدیک آیت ہذا کی ترکیب امام راغب سے مختلف ہے۔حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ فاضل اندلسی نے امام راغب کی پہلی توجیہ کو درست سمجھتے ہوئے اپنی طرف سے اجمالاً معنی بیان کر کے اس کی تفسیر میں امام راغب کا قول پیش کر اپنے مجمل بیان کی تفصیل پیش کی ہے۔پس فاضل اندلسی کا قول مجمل ہے اور امام راغب کا مفصل۔اور یہ دونوں قول ہرگز ایک دوسرے کے خلاف نہیں۔اگر فاضل اندلسی کے نزدیک ان کا یہ قول ان کے اپنے خیال کے مخالف ہوتا تو اس کی وہ ساتھ ہی فورا تردید بھی کر دیتے جیسا کہ امام راغب کے دوسرے قول کی جو اس کی تفسیر میں پیش کیا ہے خود تردید کر دی ہے۔