مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 249 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 249

۲۴۹ تَقَدَّمَهُمْ مِمَّنْ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ قَالَ الرَّاغِبُ مِمَّنْ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفِرَقِ الْأَرْبَعِ فِى الْمَنْزِلَةِ وَالثَّوَابِ النَّبِيُّ بِالنَّبِيِّ وَالصِّدِّيْقُ بِالصِّدِّيقِ وَالشَّهِيدُ بِالشَّهِيدِ وَالصَّالِحُ بِالصَّالِح۔( بحر المحیط جلد ۲ صفحه ۲۸۷) ترجمہ: یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول مِنَ النَّبِيِّينَ - أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ کی تفسیر ہے۔گویا یہ کہا گیا ہے کہ جو تم میں سے اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے انعام یافتہ لوگوں سے ملا دے گا جو اُن سے پہلے گزر چکے ہیں۔راغب نے کہا یعنی اُن چار گروہوں کے ساتھ درجہ اور ثواب میں شامل کر دے گا۔جن پر اُس نے انعام کیا ہے۔اس طرح کہ جو تم میں سے نبی ہوگا اس کو نبی کے ساتھ ملا دے گا۔اور جو صدیق ہوگا اُسے صدیق کے ساتھ ملا دے گا۔اور شہید کو شہید کے ساتھ ملا دے گا۔اور صالح کو صالح کے ساتھ ملا دے گا۔یہ ترجمہ درج کر کے میں نے اپنی کتاب علمی تبصرہ میں مولوی ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کے رسالہ ختم نبوت“ کے جواب میں لکھا تھا:۔اس عبارت میں امام راغب علیہ الرحمۃ نے النَّبِيُّ بالنَّبي کہہ کر ظاہر کر دیا ہے کہ اس اُمت کا نبی گزشتہ انبیاء کے ساتھ شامل ہو جائے گا جس طرح اس اُمت کا صدیق گزشتہ صدیقوں اور اس اُمت کا شہید گزشتہ شہیدوں اور اس اُمت کا صالح گزشتہ صالحین کے ساتھ شامل ہوگا۔گویا اُن کی تفسیر کے مطابق اُمّتِ محمدیہ کے لئے آنحضرت صلی