مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 244
(re) مقام خاتم انت سے کریں گے تو کیا قرآنی شریعت اس وقت اُن کی شریعت بن جائے گی۔اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مستقل تشریعی نبی کی حیثیت رکھیں گے۔اگر نہیں بلکہ وہ امتی نبی ہوں گے تو صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعود مولوی خالد محمود صاحب کے نزدیک ایک جدید اصطلاح میں نبی ہے۔کیونکہ اس قسم کا امتی نبی وہ خود مان چکے ہیں کہ پہلے انبیاء میں سے کوئی نہیں ہوا۔بلکہ تمام پہلے انبیاء ان کے نزدیک مستقل تشریعی نبی تھے۔اور تشریعی نبی یا مستقل نبی کا آنا آیت خاتم النبیین کے منافی ہے۔ایک اور سوال مولوی خالد محمود صاحب کے نزدیک نبی کے لئے شریعت کا لانا ضروری ہے۔خواہ پہلی شریعت کو ہی وحی الہی سے اس کی شریعت بنا دیا جائے۔یا وہ کوئی جدید شریعت لائے۔اس سے ظاہر ہے کہ نبی کی تعریف میں ان کے نزدیک استقلال بالشریعہ شرط ہے تو ان کا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کی جماعت کو ختم نبوت کا منکر قرار دینا کیسے صحیح ہوا۔بانی سلسلہ احمدیہ تو فرماتے ہیں کہ نہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لایا ہوں اور نہ میں مستقل نبی ہوں۔بلکہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باطنی فیوض حاصل کر کے آپ کے واسطہ سے اُمور غیبیہ پر اطلاع دیا جانے کی وجہ سے نبی ہوں۔آپ نے یہ بات اپنے اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ میں صاف طور پر بیان فرما دی ہوئی ہے۔اور استفتاء ضمیمہ حقیقتہ الوحی میں یہ بھی تحریر فرمایا ہے:۔" مَانَعْنِي مِنَ النُّبُوَّةِ مَا يُعْنَى فِي الصُّحُفِ الْأَوْلَى بَلْ هِيَ دَرَجَةٌ لَا تُعْطَى إِلَّا مِنْ إِتِّبَاعِ سَيِّدِنَا خَيْرِ الْوَرى۔