مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 237
۲۳۷ مقام خاتم انا حضرت مولانا روم علیہ الرحمہ کا عقیدہ حضرت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمۃ خاتم النبیین کی تشریح میں لکھتے ہیں:۔بہر ایں خاتم شد است او که بجود مثل اونے بود نے خواهند بود چونکه در صنعت برد استاد دست نے تو گوئی ختم صنعت بر تو است ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وجہ سے خاتم ہیں کہ سخاوت (فیض پہنچانے میں نہ آپ جیسا کوئی ہوا ہے نہ ہوگا۔جب کوئی کاریگر اپنی کاریگری میں کامل درجہ کی دسترس رکھتا ہو تو اے مخاطب کیا تو یہ نہیں کہتا کہ اس شخص پر کاریگری ختم ہوگئی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ مولانائے روم کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوت اس رنگ میں ختم ہوئی ہے جس رنگ میں صنعت میں کامل دسترس رکھنے والے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس پر صنعت ختم ہو گئی ہے۔اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ اس کے بعد کوئی کاریگر پیدا نہیں ہوگا۔بلکہ صرف یہ معنی ہوتے ہیں کہ اس جیسا کوئی کاریگر نہیں۔اس تشریح سے ظاہر ہے کہ مولانا روم کے نزدیک بھی خاتم النبیین کے یہ معنی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کے ظہور میں مؤثر وجود ہیں۔اور آپ کے فیض سے ولایت سے بڑھ کر مقام نبوت بھی مل سکتا ہے۔چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں:۔فکر کن در راه نیکو خد متے ! تا نبوت یا بی اندر امتے ترجمہ: اے مخاطب ! نیکی کی راہ میں ایسی خدمت سر انجام دے کہ تجھے اُمت میں نبوت مل جائے۔(مثنوی مولانا روم دفتر اول صفحه ۵۳)