مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 227
۲۲۷ " وَاَقُوْلُ التَّحَدِيْ فَرْعُ دَعْوَى النُّبُوَّةِ وَ دَعْوَى النُّبُوَّةِ بَعْدَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفْرٌ بِالْإِجْمَاعِ۔“ ( عقيدة الامة صفحه ۷۲ ) یہ قول بھی مسیح موعود کے ظہور سے پہلے زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کیونکہ مسیح موعود کو تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی قرار دیا ہے۔اور اپنا اتنی بھی پس اس کی طرف سے غیر تشریعی نبی کی طرح تحدی ممکن ہوئی۔اس عبارت میں دَعْوَى النُّبُوَّةِ سے مُراد تشریعی نبوت ہی کا دعوی ہے۔تیسرا قول تیسرا قول یہ پیش کرتے ہیں :۔” وَالْمَعْنى أَنَّهُ لَا يَحْدُتُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ لِأَنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّنَ السَّابِقِينَ۔“ (مرقاة جلد ۵ صفحه ۵۶۴، عقیدۃ الامۃ صفحه ۷۳) پس معنی یہی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا کیونکہ آپ پہلے نبیوں کے آخر یعنی خاتم النبیین ہیں۔یہ ترجمہ مولوی خالد محمود صاحب کا ہے۔اور حقیقت کو چُھپانے کے لئے اس جگہ مولوی خالد محمود صاحب نے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ اس جگہ کس قول کے معنے بیان ہو رہے ہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اس موقعہ پر امام علی القاری علیہ الرحمۃ حدیث لا نبی بعدی کے یہ معنی بیان کر رہے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی