مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 205 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 205

۲۰۵ مقام خاتم است مَقَامٌ جَلِيْلٌ جَهِلَهُ أَكْثَرُ النَّاسِ مِنْ أَهْلِ طَرِيْقَتِنَا كَابِيْ حَامِدٍ وَ أَمْثَالُهُ لَانَّ ذَوْقَهُ عَزِيزٌ وَهُوَ ،، مَقَامُ النُّبُوَّةِ الْمُطْلَقَةِ » (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۱۱) ترجمہ: خدا تعالیٰ کے خاص مقربوں کا مقام صدیقیت اور نبوت تشریعیہ کے درمیان واقع ہے۔یہ ایک عظیم الشان مقام ہے جس سے ہمارے اہلِ طریقت میں سے اکثر لوگ جیسے ابو حامد (غزالی) وغیرہ نا واقف ہیں۔کیونکہ اس کا ذوق کم ہی لوگوں کو حاصل ہے۔اور یہ نبوت مطلقہ کا مقام ہے۔نبوة مطلقہ نبوت کی مُجد وذاتی ہے یہی نبوة مطلقہ شیخ اکبر کے نزدیک نبوت کی جزو ذاتی ہے۔شریعت لانے کو وہ جزو عارض قرار دیتے ہیں۔یعنی ایسی جزو جو کسی نبی کو حاصل ہوتی ہے اور کسی کو نہیں۔چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں:۔عَلِمْنَا أَنَّ التَّشْرِيْعَ أَمْرٌ عَارِضٌ بِكَوْنِ عِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ فِيْنَا مِنْ غَيْرِ تَشْرِيْعٍ وَهُوَ نَبِيٌّ بَلَا شَكٍّ ، ،، (فتوحات مکیہ جلد اصفحہ ۵۷) ترجمہ: ہم نے جان لیا ہے کہ شریعت کا لانا ایک امر عارض ہے ( یعنی نبوت کے لئے امر ذاتی نہیں۔ناقل ) کیونکہ عیسی علیہ السلام ہم میں