مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 187
(IAZ) مقام خا نتين اس حدیث کے الفاظ أَلَا إِنَّهُ خَلِيْفَتِيْ فِي أُمَّتِی سے ظاہر ہے کہ موعود عیسی بن مریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے آپ کا خلیفہ ہونے والا ہے۔سورۃ نور کی آیت استخلاف سے ظاہر ہے کہ اس امت کے خلفاء وہ ہوں گے جو ایمان لانے کے بعد اعمالِ صالحہ بجالائیں گے۔اور یہ خلفاء پہلے خلفاء کے مشابہ ہوں گے۔یعنی اُن کے مثیل ہوں گے۔پس حضرت عیسی اس اُمت میں اصالتا نہیں آسکتے۔بلکہ اُن کا کوئی مثیل ہی آسکتا ہے جو امت محمدیہ کے افراد میں سے ہو۔جسے عیسی بن مریم سے مماثلت کی وجہ سے بطور استعارہ حدیث نبوی میں عیسی بن مریم کا نام دیا گیا ہے۔تا یہ ظاہر ہو کہ مسیح موعود عیسی بن مریم کے رنگ میں رنگین اور ان کا مثیل ہو گا۔- یہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام مستقل نبی تھے اور مولوی خالد محمود صاحب انہیں تشریعی نبی مانتے ہیں۔اس لئے ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا آیت خاتم النبیین کے منافی ہے۔ہاں اُمت میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی خلیفہ کا کسی پہلے نبی کا مثیل ہونا بموجب آیت استخلاف آیت خاتم النبیین کے منافی نہیں۔کیونکہ ایسا شخص مستقل یا تشریعی نبی نہیں ہوگا۔بلکہ ایک پہلو سے نبی ہوگا اور ایک پہلو سے امتی بھی۔چھٹی حدیث عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لَهُ مُرْضِعٌ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا (ابن ماجہ کتاب الجنائز)