مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 175 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 175

۱۷۵) مقام خاتم انا " نام کی بندش کر دی گئی۔“ واضع ہو کہ یہ ترجمہ اس لئے غلط ہے کہ شریعت تو غیر تشریعی نبی کو بھی نبی قرار دیتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کو بھی باوجود اس کے امتی ہونے کے نبی قرار دیا ہے۔پس حاصلِ مطلب فتوحات مکیہ کے اس قول کا یہ ہے کہ عرف میں نبوت اور نبی کا لفظ صرف تشریعی نبی پر بولا جاتا ہے۔نہ کہ شریعت میں۔کیونکہ شریعت تو تشریعی اور غیر تشریعی دو قسم کی نبوت قرار دیتی ہے۔ہاں جب ایک لفظ ایک معنی میں معروف و مخصوص ہو جائے جیسا کہ نبی اور نبوت کا لفظ عرف میں شارع کے لئے استعمال ہونا شروع ہو گیا تو ایسے لفظ کے استعمال میں بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہرمحل پر اس کا استعمال معروف معنوں میں ہی نہ سمجھ لیا جائے۔اس لئے امتی نبی کے لئے ہمارے نزدیک بھی القوة يا النہمی کا لفظ خالی کسی قید کے بغیر استعمال کرنا مناسب نہیں تا کہ یہ غلط فہمی پیدا نہ ہو کہ شخص تشریعی نبوت کا مدعی ہے۔پس جس طرح ایک نبی کو غیر تشریعی نبی کہیں تو اس کے شارع نبی ہونے کا بالکل احتمال ہی اُٹھ جاتا ہے۔اسی طرح اگر کسی نبی کو امتی نبی کہا جائے تو اُس کے شارع اور مستقل نبی ہونے کا احتمال پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔پس حضرت محی الدین ابن عربی کے نزدیک صرف بلا قید اس لفظ کا استعمال کسی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ممنوع ہے۔حضرت شیخ عبد القادر جیلانی علیہ ارحمتہ مقام نبوت پانے والے ولی یعنی امتی کے متعلق لکھتے ہیں:۔” وَيُسَمَّى صَاحِبُ هَذَا الْمَقَامِ مِنْ أَنْبِيَاءِ الْأَوْلِيَاءِ الیواقیت والجواہر ونبر اس صفحہ ۴۴۵ حاشیہ )