مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 172
(۱۷۲) مقام خاتم النی دو ۲ قسم پر ہے۔ایک نبوّت تشریعی جو ختم ہو گئی۔دوسری نبوت بمعنی خبر دادن“ وہ غیر منقطع ہے۔پس اس کو مبشرات کہتے ہیں اپنے اقسام کے ساتھ۔اس میں رویاء بھی ہیں۔“ ایک ضروری سوال ( کوکب الدری صفحہ ۱۴۷ - ۱۴۸) اس موقع پر ہمارا مولوی خالد محمود صاحب سے ایک ضروری سوال ہے جو یہ ہے کہ جب ان کے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اقوامِ عالم کی اصلاح کے لئے نازل ہوں گے تو انہیں کس قسم کی نبوت حاصل ہوگی ؟ تشریعی نبوت تو بموجب اس حدیث کے لم یبق“ کے ذیل میں آکر باقی نہیں رہی۔اور غیر تشریعی مستقلہ نبوت بھی اسی کے ذیل میں آتی ہے۔لہذا حضرت عیسی علیہ السلام کی دوبارہ آمد پر اُن کی نبوت المبشرات والا فر دنبوت ہی ہوسکتی ہے۔پس جب مولوی خالد محمود صاحب نے المبشرات کو نبوت کا ایک فرد مان لیا ہے تو یہ حدیث تو ہمارے عقیدہ کی مؤید ہوئی۔یہ حدیث یہ تو نہیں بتاتی کہ حضرت عیسی علیہ السلام تو المبشرات والی نبوت کا فرد ہوکر آسکتے ہیں اور امت محمدیہ میں المبشرات والے فرد نبوت کو کوئی اور امتی حاصل نہیں کر سکتا۔بلکہ یہ حدیث تو واضح طور پر یہ اعلان کر رہی ہے کہ اس کا دروازہ اُمت کے لئے تا قیامت گھلا ہے۔اس جگہ بڑا زور مار کر مولوی خالد محمود صاحب نے حقیقت کو ملتبس کرنے کے لئے لکھا ہے:۔