مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 99
۹۹ مقام خاتم السنة رکھنے والوں نے اعتراض کر دیا کہ قرآن مجید سارے کا سارا یکدم کیوں نازل نہیں ہوا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس اعتراض کا خود ان الفاظ میں ذکر کر کے اس کا جواب بھی دیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَكَذلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِي عَدُوًّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ وَكَفَى برَبِّكَ هَادِيًا وَّ نَصِيرًا۔وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلاً۔(الفرقان آیت ۳۲ ۳۳ ۳۴) ترجمہ: اور ہم نے اسی طرح مجرموں میں سے سب نبیوں کے دشمن بنائے ہیں اور تیرا رب ہدایت دینے اور مدد کرنے کے لحاظ سے کافی ہے اور کافروں نے کہا کیوں نہ قرآن اس (نبی) پر ایک ہی دفعہ نازل کر دیا گیا۔بات اسی طرح ہے کہ یکدم نازل نہیں کیا گیا ) وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم ( تدریجا نازل کرنے سے ) اس کے ذریعہ تیرے دل کو مضبوط کرتے رہیں اور ہم نے اس کو نہایت عمدہ بنایا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔” جو لوگ خدا تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کوئی دلیری نہیں کر سکتے۔اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے بعض عبادات کے ادا کرنے کے بارہ