مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 78 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 78

مالی قربانی 78 النَّاسَ أَعْطِيَاتَهُمْ سَاَلَ الرَّجُلُ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ مَّال وَجَبَتْ عَلَيْكَ فِيهِ الزَكواةُ فَإِنْ قَالَ نَعْمُ أَخَذَمِنْ عَطَائِهِ زَكَوةَ ذِلِكَ الْمَالِ وَإِنْ قَالَ لَا سَلَّمَ إِلَيْهِ عَطَاءَهُ وَلَمُ يَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا۔(موطا امام مالک کتاب الزكواة باب الزكوة) ترجمہ:۔قاسم بن محمد نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق اکسی مال میں سے زکوۃ نہ لیتے تھے جب تک ایک سال اس پر نہ گزرتا اور آپ جب لوگوں کو ان کے وظائف دیتے تو پوچھ لیتے کہ تم پر کسی مال کی زکوۃ واجب ہے اگر وہ کہتا کہ ہاں تو اسی وظیفہ میں سے زکوۃ نکال لیتے اور اگر کہتا نہیں تو اس کو وظیفہ دے دیتے اور کچھ اس میں سے نہ لیتے۔زکوة کیا ہے ---- حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔زکوة کیا ہے۔يُؤخَذُ مِنَ الْامَرَاءِ وَيُرَدُّ إِلَى الْفُقْرَاءِ امراء سے لے کر فقراء کو دی جاتی ہے۔اس میں اعلیٰ درجہ کی ہمدردی سکھائی گئی ہے۔اس طرح سے باہم گرم سرد ملنے سے مسلمان سنبھل جاتے ہیں۔امراء پر یہ فرض ہے۔کہ وہ ادا کریں۔اگر نہ بھی فرض ہوتی۔تو بھی انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا۔کہ غرباء کی مدد کی جائے۔مگراب میں دیکھتا ہوں۔کہ ہمسایہ اگر فاقہ مرتا ہو۔تو پرواہ نہیں۔اپنے عیش و آرام سے کام ہے۔جو بات خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے۔میں اس کے بیان کرنے سے رک نہیں سکتا۔انسان میں ہمدردی اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔یعنی تم ہرگز ہرگز اس نیکی کو حاصل نہیں کر سکتے۔جب تک اپنی پیاری چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔یہ طریق اللہ کو ایک تعارف