مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 33 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 33

مالی قربانی 33 پڑ جائے کہ میری کوشش ہے۔میری چالا کی ہے۔میرے ہاتھ کا کرتب ہے تو بڑا بیوقوف ہوگا۔یہ ان چند روٹیوں کے طفیل مل رہا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا کی راہ میں قربان کی تھیں۔ابھی نبوت بھی عطا نہیں ہوئی تھی کہ جو کچھ تھا خدا کو پیش کر بیٹھے۔یہ اسی کا صدقہ ہے جو کھایا جارہا ہے۔صرف وہی نہیں ، سینکڑوں احمدی خاندان ہیں جو اسی قسم کی قربانیوں کا پھل کھا رہے ہیں۔شرح میں کمی کی اجازت (خطبہ جمعہ استمبر ۱۹۸۲۔سپین ) " میں نے تو بارہا یہ اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اتنا نہیں دے سکتا جو شرح کے مطابق ضروری ہے تو صاف کہے، اپنے حالات پیش کرے۔چندہ عام ہے وہ خلیفہ وقت معاف کر سکتا ہے۔اور میں کھلا وعدہ کرتا ہوں کہ جو دیانتداری سے سمجھتا ہے کہ میں نہیں پورا اُتر سکتا میری شرح کم کر دی جائے اس کی شرح کم کر دی جائے گی۔لیکن جھوٹ نہ بولیں خدا سے۔یہ نہ ہو کہ خدا کروڑ دے رہا ہو اور آپ لاکھ کے اوپر چندہ دے رہے ہوں اور بتا یہ رہے ہوں کہ دیا ہی خدا نے لاکھ ہے۔اللہ کوئی بھول جاتا ہے۔(نعوذ باللہ من ذالک) کہ میں نے اس کو کیا دیا تھا اور اب یہ مجھے کیا واپس کر رہا ہے۔جس نے دیا ہے وہ تو دلوں کے بھیدوں سے آشنا ہے، وہ مخفی ارادوں سے آشنا ہے۔وہ ان بنک بیلنسز سے آگاہ ہے جن میں روپے جاتے ہیں۔اور غائب ہو جاتے ہیں اور تسلی نہیں پاتا انسان، اور بڑھانا چاہتا ہے۔تو جوضرورت مند ہے اس کی ضرورتوں کی فکر کی جائے گی۔اس کی ضرورت کا لحاظ کیا جائے گا۔اس کو خوشی سے اجازت دی جائے گی بلکہ ایسا ضروت مند احمدی جو چندہ نہیں دے سکتا امداد کا مستحق ہے جماعت کا کام ہے جہاں تک ممکن ہو اس کی امداد کرے۔لیکن خدا سے جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس لئے ایک مہلت میں دیتا ہوں اس خیال سے کہ ہمارے بھائی ضائع نہ ہوں۔مجھے اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ خدا کے کام کیسے ایک تعارف