مالی قربانی ایک تعارف — Page 32
مالی قربانی 32 اسلام کی کشتی کامیابی اور کامرانی کی ساتھ پار ہو سکے۔اس کے باوجود دیکھتے ہیں کہ جماعت کے چند آدمی اس بوجھ کو اٹھارہے ہیں جو لکھوکھہا کیا کروڑوں کا کام ہے کہ وہ اٹھا ئیں اور صرف چندہ آدمی ہیں جو اس بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا۔کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔کوئی انسانی ہمدردی کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔کوئی احساس ندامت دل میں پیدا نہیں ہوتا کہ ہم بھی تو اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ہم نے بھی تو وہی وعدے کئے تھے۔ہم پر بھی تو احسان ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کہ دوبارہ اسلام کی حقیقی لذتوں سے آشنا کیا اور بڑے آرام سے کھڑے اس طرح نظارے کر رہے ہیں جیسے ڈوبتی کشتی کا کوئی ساحل سے نظارہ کر رہا ہو اور کوئی اس کے دل میں جس پیدا نہ ہو۔۔اس لئے انسانی ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو ساتھ شامل کیا جائے۔اس لئے وہ سارے جو آج اس خطبے میں شامل ہیں وہ اپنے اپنے ماحول میں جا کر اس بات کے مبلغ بنیں کہ پہلے جو کمزور ہیں، جو خدا کی راہ میں خرچ سے ڈر رہے ہیں ان کو بتایا جائے کہ تم تو محروم ہور ہے ہو۔نیکیوں سے بھی محروم ہور ہے ہو اور خدا کے فضلوں سے بھی محروم ہورہے ہو۔اس دنیا سے بھی محروم ہورہے ہو جس کے پیچھے تم پڑے ہوئے ہو۔تمہارے روپوں میں برکت نہیں رہے گی تم اپنی اولادوں کی خوشیوں کو نہیں دیکھ سکو گے۔ان سے محروم کئے جاؤ گے۔تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری لذتیں نکل جائیں گی تمہارے دلوں سے اور ان کی جگہ غم اور فکر لے لیں گے۔یہ تقدیر ہے ان احمدیوں کیلئے جو احمدیت کو چھوڑ کر دور جار ہے ہیں۔یہی ہم نے دیکھا ہے ہمیشہ۔اور جو خدا کی راہ میں قربانی کرتے ہیں اللہ ان کی قربانی رکھا نہیں کرتا۔کون سا قربانی کرنے والا آپ نے دیکھا ہے جس کی اولا دفاقے کر رہی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان دیکھیں خدا نے فضل کئے ہیں۔مگر اس وقت تک یہ فضل ہیں جب تک کوئی سمجھے کہ کس کی بناء پر ہیں۔اگر کسی دماغ میں یہ کیڑا ایک تعارف