مالی قربانی ایک تعارف

by Other Authors

Page 189 of 201

مالی قربانی ایک تعارف — Page 189

مالی قربانی 189 ایک تعارف |: مدايات ) وصیت تحریر کرنے سے پہلے رسالہ الوصیت نھیمہ اور فیصلہ جاتے کو پڑھ یا سن لینا چاہئے اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وصیت کی سب سے مقدم شرط یہ ہے کہ۔موصی نیک، پابند احکام شریعت، دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا سچا اور پاک وصاف مخلص احمدی ہو۔وصیت تندرستی کی حالت میں کی جاوے۔مرض الموت کی وصیت منظور نہ ہوگی۔جسمی وصیت میں جائیدا وغیر منقولہ درج ہواس پر حتی الوسع موصی کے ورثاء اور شرکاء کے دستخط ہونے چاہئیں۔۴ عورت کی وصیت پر اگر اس کا خاوند زندہ ہے تو اس کی گواہی درج ہونی چاہئے۔حق مہر بھی عورت کی جائیداد ہے جو شامل وصیت ہونا چاہتے۔اس وضاحت کے ساتھ کہ خامنہ سے وصول ہو چکا ہے یا اس کے ذمہ ہے۔زیورات کی تفصیل میں زیور کا نام ، وزن اور اندازہ قیمت درج کیا جائے۔اسی طرح خاوند کی یا ہوا ر آباد بھی درج کی جاوے اور خاوند کے موصی ہونے کی صورت میں اس کا وصیت نمبر بھی درج کیا جائے۔2 9 : جس وصیت میں جائیدا وغیر منقولہ درج ہوا کس کو اپنے علاقے کے سب رجسٹرار سے سرکاری طور پر رجسٹری کروا لینا چاہتے۔جن مومیان کے رستے میں جائیدا وغیر منقولہ کی وصیت کرنے میں کوئی قانونی روک ہو وہ جس قدر جا ئیداد کی وصیت کرنا چاہتے ہیں اسے اپنی زندگی میں بھی صدر انجمن احمد یہ پاکستان ربوہ کے نام ہبہ کر دیں اور جائیداد مو ہو بہ کا داخل اخراج صدرانجمن احمدیہ پاکستان ربوہ کے نام کروا کر منظور شدہ انتقال کی با قاعد نقل بھجوا دیں۔اگر یہ مذکورہ میں رفت ہو تو جس قد رجائیدا رومیت کے وقت موجود ہے اس کی تفصیل فرنچ جائے وقوع وغیر ہ وصیت میں تحریر کر کے اس کی بازاری قیمت درج کر دی جائے۔یہ قیمت موصی کو اپنی مقامی انجمن کے مشورہ سے درج کرنی چاہتے اور علیحدہ کاغذ پر مقامی پریذیڈنٹ کی طرف سے تصدیق بھجوانی چاہیئے کہ بازاری ریٹ کے لحاظ سے صحیح قیمت لگائی گئی ہے نیز یہ بھی تصدیق ہو کہ اس کے علاوہ موصی کی کوئی جائیدان نہیں ہے۔ہر ایک موصی کا فرض ہو گا کہ حسب توا پر اپنی جائیدا و غیر منقولہ کی آمد پر چندہ حصد آمد بشرح چندہ عام ادا کرے ہر موصی کو اپنی جائیداد کے علاوہ اپنی ما ہوا تما مد پر بھی حصد وصیت ادا کرنے کا اقرار کرنا چاہتے اور حسب وحمیت چندہ حصہ آمد ماہ بہاو ادا کرنا چاہتے۔نیز ہر موصی کا یہ بھی فرض ہو گا کہ اپنی کل سالانہ آمدن کی اطلاع ہر سال بمطابق جدول ج صیفہ بہشتی مقبرہ کو بھجوائے۔حصہ آمد کی ادائیگی بمطابق وصیت تا ریخ تحریر منظوری سے شروع ہوگی۔خواہ سرٹیفکیٹ بعد میں کسی وقت ملے۔جو موصی وصیت کا چندہ یعنی حصہ آمد واجب ہو چکنے کے چھ ما وبعد تک حصہ آمد ادا نہیں کر پکایا ادائیگی شروع کر کے پھر بند کر دیگا اوردفتر مجلس کا ریر و از مصالح قبرستان ربوہ سے معذوری بتا کرا جازت بھی حاصل نہیں کریگا۔اس کی وصیت تامل منسوخی ہوگی۔صدر انجمن احمدیہ کو یا تیار حاصل ہوگا کہ کوئی وصیت منظور کرنے سے انکار کر دے یا بعد منظوری بلا وجہ بتائے منسوخ کر دے اور صدر انجمن احمدیہ کا فیصلہ ہر صورت میں ناطق ہو گا۔سیکرٹری مجلس کا رپر را ز مصالح قبرستان ربوہ مضلع جھنگ) ========= تحریر خاوند بسلسله حق مهر = کے ماہر کو ادا کرنے کا ذمہ دار ہوں میری اس وقت ماہوار اسالانہ آمد ========= روپے کا حصہ وصیت صدر انجمن احمد یہ پاکستان ربوہ روپے ہے۔میں اپنی بیوی مسماق ولد بیت عمل ہے گواه مشد نمبر 1 والد بیت ملة الحبيب ولید بیت۔کمل گواه شد نمبر 2