مالی قربانی ایک تعارف — Page 104
مالی قربانی رمایا:۔104 ایک تعارف 9 نومبر 1934ء کو خطبہ جمعہ میں تحریک جدید میں شمولیت کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے حضور نے " گو اس میں شامل ہونا اختیاری ہو گا مگر جو شخص شامل ہونے کی اہلیت رکھنے کے باوجود اس خیال کے ماتحت شامل نہیں ہوگا کہ خلیفہ نے شمولیت کو اختیاری قرار دیا ہے وہ مرنے " سے پہلے اس دنیا میں یا مرنے کے بعد اگلے جہاں میں پکڑا جائے گا۔۔۔ابتداء میں تحریک جدید میں شمولیت کے معیار کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔" پس دوسرا مطالبہ اس تحریک کے ماتحت میرا یہ ہے کہ جماعت کے ذی ثروت لوگ جو سوسو روپیہ یا زیادہ روپیہ دے سکیں اس کے لئے رقوم دیگر ثواب حاصل کریں۔اس تحریک میں بھی غرباء کو حصہ دلانے کیلئے میں اجازت دیتا ہوں کہ جو لوگ پانچ پانچ روپیہ اس مد میں دے سکیں وہ بھی اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔" الفضل قادیان ، ۲۹ نومبر ۱۹۳۴ء) تحریک جدید جیسی عظیم تحریک میں ہر شخص نے اپنے لئے قربانی کے معیار کا خود فیصلہ کرنا ہے۔لیکن یہ فیصلہ کرتے وقت تحریک جدید کی اہمیت و عظمت اور لامحدود بین لاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ خلفاء سلسلہ کے ارشادات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔سیدنا حضرت مصلح موعود نے مختلف موقعوں پر مختلف معیاروں کو اختیار کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے فرمایا:۔" اگر کوئی شخص اپنی ایک ماہ کی آمد کا نصف دے دیتا ہے مثلاً اُس کی سوروپیہ ماہوار آمد ہے تو وہ پچاس روپیہ وعدہ لکھوا دے تو سمجھا جائے گا کہ اس نے اچھی قربانی کی ہے۔اور وہ اگر ایک ماہ کی پوری آمد یعنی سو کی سوروپے ہی بطور وعدہ لکھوا دے تو ہم سمجھیں گے کہ اُس نے تکلیف اُٹھا کر قربانی کی ہے۔" خطبه جمعه ۴ /دسمبر ۱۹۵۳ء) حضرت خلیفہ امسح الثالث" نے مجلس مشاورت 1969ء میں تحریک جدید کے وعدہ جات کے معیار کے متعلق فرمایا:۔