ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 65

ہی کا کام ہے کہ پہلے ایک واقعہ کی خبر دیتا ہے کیونکہ علمِ غیب اسی کو ہے اور یہ اسی کا خاصہ ہے اور وہ اپنے مرسلین پر ایسے ظاہر کرتا ہے۔جب یہ بات ہے تو پھر سوچو مَر کر خدا تعالیٰ کے سامنے جانا ہے۔اس کا کیا جواب ہے؟ کہ باوجودیکہ تم نے اپنی آنکھوں سے ان نشانات کو دیکھا اور تم ان کے گواہ ٹھہرے اور سنے سنائے گواہ نہیں بلکہ رؤیت کے گواہ اور وہ بھی ایسے کہ دنیا بھر میں جواب نہ دے سکیں۔یاد رکھو خدا کی حجّت تم پر قائم ہے۔میں حلفاً کہتا ہوں سب سے زیادہ حجّت تم پر قائم ہے۔اگرچہ ساری دنیا پر حجّت ہے مگر تم پر سب سے زیادہ ہے۔میرا وجود اس وقت نہ ہونے کے برابر تھا۔میں ایک محض وجود تھا۔پھر جب کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا اور جس کا تمہیں علم دے دیا گیا تھا۔اسی طرح پورا ہونا آسان بات نہیں ہے۔دیکھو! یہ کیسا بزرگ نشان ہے، ایسا نشان ہے جو ہر روز تازہ بتازہ پورا ہو رہا ہے۔یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا۔وہ رحیم کریم خدا ہے لیکن جب انسان شوخی کرتا ہے تو اسے ڈرنا چاہیے۔کیا وہ نہیںجانتے کہ ابھی قادیان میں طاعون نہیں ہوا تھا تو میں نے شائع کر دیا تھا اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔پھر کیا وجہ ہے کہ ہندوؤں کے تو گھر خالی ہوجاویں اور میرے گھر کا چوہا بھی نہ مَرے۔میں پھر کھول کر کہتا ہوں کہ یہ اور اس قسم کے بہت سے نشانات یہاں کے ہندوؤں نے دیکھے ہیں جو اگرچہ سب دنیا پر حجّت ہیں لیکن ان پر سب سے زیادہ حجّت ہے۔وہ مجھے اور میری جماعت کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے اور دینے کے ارادوں میں رہتے ہیں مگر وہ یاد رکھیں کہ خدا ہے اور ضرور ہے اور وہ بے باک اور شوخ کو سزا دئیے بغیر نہیں چھوڑتا۔جماعت کے لیے نصیحت آخرکار میںاپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم دشمن کے مقابلہ پر صبر اختیار کرو۔تم گالیاں سن کر چپ رہو۔گالی سے کیا نقصان ہوتا ہے۔گالی دینے والے کے اخلاق کا پتا لگتا ہے۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر تم کو کوئی زدو کوب بھی کرے تب صبر سے کام لو۔یہ یاد رکھو اگر خدا کی طرف سے ان لوگوں کے دل سخت نہ ہوتے تو وہ کیوں ایسا کرتے؟ یہ خدا کا فضل ہے کہ ہماری جماعت امن جُو ہے۔اگر وہ ہنگامہ پرداز ہوتی تو