ملفوظات (جلد 9) — Page 46
وہاں گائے بھینسوں کا بڑا ہجوم تھا۔اس نے تلوار کی نوک سے ایک گائے کو ہٹایا۔جس کی وجہ سے اس کی دُم کے پاس ذرا سی خراش ہوگئی۔برہمن اسے پکڑ کر لے گئے اور اس جرم میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا۔اس قسم کے ظلم اور سختیاں ہوتی تھی۔اب بتاؤ کہ ہم لوگ جنہوں نے اس قدر مصیبتیں اٹھائی ہیں اگر اس کا انکار کریں۱ تو پھر خدا کا انکار کرنے والے ٹھہریں گے۔ا س وقت ایسا امن ہے کہ جو چاہے اور جس طرح چاہے عبادت کرے، بانگ دے، کوئی روکنے والا نہیں۔اس لیے ہمارا فرض ہے کہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت (گورنمنٹ انگلشیہ) کا شکریہ ادا کریں اور اس کی قدر کریں۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے جیسا شکر گذاری میں حق (تھا) ادا نہیں کیا۔امن کا حق بھی ادا نہیں کیا۔چاہیے تو یہ تھا کہ جب امن ہوگیا تھا تو خدا کی طرف زیادہ توجہ کرتے اور عبادت میں مشغول ہوتے۔مگر نماز تو درکنار بانگ تک کے روادار نہیں ہیں بلکہ ناگفتنی عیبوں میں مبتلا ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ یہ امن تو اس لیے تھا کہ نیکی میں ترقی کریں مگر انہوں نے اس کے برخلاف کیا۔یہ سچ ہے کہ امن کی حالت دو پہلو رکھتی ہے خواہ انسان نیکی میں ترقی کرے یا شراب خانے میں چلا جاوے۔مگر میں افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ مسلمانوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔مگر ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے۔۲ ۱ بدر سے۔’’اگر اب اس نعمت کا انکار کریں تو خدا کا انکار ہوگا۔کیونکہ خدا ہی نے یہ نعمت بھیجی ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰) ۲ بدر سے۔’’اس قدر امن پاکر تو مسلمانوں کو لازم تھا اور بھی زیادہ دین کی طرف توجہ کرتے لیکن برخلاف اس کے اب تو مساجد بھی خالی پڑی ہیں۔پہلے تو یہ شکایت تھی کہ سکھ اذان نہیں کہنے دیتے اور اب یہ ہے کہ اذان کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔دنیا کے جھگڑوں میں اور ناگفتنی عیبوں میں ایسے مبتلا ہوئے ہیں کہ دین کو بالکل بھول ہی گئے ہیں۔چاہیے تھا کہ نیکی میں ترقی کرتے نہ کہ بدی میں۔امن کی حالت میں انسان کو اختیار ہوتا ہے کہ خواہ مساجد کو آباد کرے اور خواہ قمار خانے کو۔لیکن افسوس ہے کہ مسلمان نیکی کی طرف نہیں جھکے اور انہوں نے بدی کو اختیار کیا ہے لیکن ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ ایسا نہ کرے بلکہ اس اَمر کی قدر دانی کرے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۳ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۹،۱۰)