ملفوظات (جلد 9) — Page 35
حدیث النفس کا ذکر موجود ہے۔یہ کوئی چیز نہیں۔اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک تو حمل حقیقی ہوتا ہے جب مدت مقررہ نوماہ گذرجاتے ہیں تو لڑکا یا لڑکی پیدا ہوجاتی ہے۔ایک اس کے مقابلہ میں حمل کاذب ہوتا ہے بعض عورتیں رات دن اولاد کی خواہش کرتی رہتی ہیں جس سے رجا کی مرض پیدا ہو جاتی ہے اور جھوٹا حمل ہو کر پیٹ پھولنے لگتا ہے اور حمل کے علامات ظاہر ہوتے ہیں لیکن نو ماہ کے بعدپانی کی مشک نکل جاتی ہے ایسا ہی حال ان کشوف اور خوابوں کا ہے جب تک انسان محض خدا ہی کا نہ ہو جاوے۔یہ کچھ بھی چیز نہیں ہے۔انسان کی عزّت اسی میں ہے اور یہی سب سے بڑی دولت اور نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔جب وہ خدا کا مقرب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہزاروں برکات اس پر نازل کرتا ہے زمین سے بھی اور آسمان سے بھی اس پر برکات اترتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیخ کنی کے لیے قریش نے کس قدر زور لگایا۔وہ ایک قوم تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تن تنہا۔مگر دیکھو! کون کامیاب ہوا اور کون نامراد رہے؟ نصرت اور تائید خدا تعالیٰ کے مقرب کا بہت بڑا نشان ہے۔دوسرے یہ کہ ایسا شخص خزاں کے وقت آتا ہے اور بہار ہوجاتی ہے۔وہ لوگ جو خدا کی طرف سے نہ ہوں اور اس قسم کی شیخیاں مارنے والے ہوں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مردار پر بیٹھے ہوں۔۱ مگر جو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے حیّ و قیوم خدا اس کے ساتھ ہے وہ خود زندہ ہے اسے زندہ کرے گا۔وہ اپنے وعدوں کو جو اس سے کئے ہیں سچا کر دکھائے گا۔۲ میری نصیحت بار بار یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اپنے نفسوں کا بار بار مطالعہ کرو۔بدی کا چھوڑ دینا یہ بھی ایک نشان ہے اور خدا ہی سے چاہو کہ وہ تمہیں توفیق دے کیونکہ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ (الصّٰفّٰت:۹۷) ۱ بدر سے۔’’وہ اس مُردار سے کیا حاصل کر سکتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۶) ۲ بدر سے۔’’جب تک خدا تعالیٰ کے وعدے جو اس کے ساتھ ہوتے ہیںپورے نہ ہو لیں تب تک وہ مَرتا نہیں اور اس کے سلسلہ میں کچھ کمی نہیں آتی۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۶)