ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 34

ہمارا یہ مطلب نہیں کہ یہ بُری چیزیں ہیں یا بُرا طریق ہے۔نہیں نہیں۔اصل مطلب یہ ہے کہ بد استعمالی بُری ہے۔۱ بیمار کا فرض یہ ہے کہ وہ اوّل علاج کرائے نہ یہ کہ علاج تو کرائے نہیں اور کہے مجھے الف لیلہ کی سیر کے دو چار ورق سنا دو۔۲ اسی طرح کشوف اور رؤیا روحانی سیر ہیں۔جب روحانی بیماریوں کا علاج ہوجاوے گا اور روحانی صحت درست ہوگی اس وقت سیر بھی مفید ہوگی۔جب انسان اپنے نفس کو کھو دیتا ہے اور غیراللہ کی طرف التفات نہیں رہتی اور کسی کو اپنی نظر میں نہیں دیکھتا اور خدا ہی کو دیکھتا اور اس کو ہی سناتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ بھی اس کو سناتا ہے مگر وہ لوگ جن کے باوجودیکہ دو کان ہوتے ہیں مگر وہ حرص، ہوا، حسد، غصہ و کینہ وغیرہ ہر قسم کی طاقتوں کی باتیں سنتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی بات کیوں کر سن سکتے ہیں۔ہاں ایک قوم ہوتی ہے جو باقی سب کو ذبح کر ڈالتے ہیں اور سب طرف سے کانوں کو بند کر لیتے ہیں۔نہ کسی کی سنتے ہیں اور نہ کسی کو سناتے ہیں۔انہیں ہی خدا بھی اپنی سناتا ہے اور ان کی سنتا ہے اور وہی مبارک ہوتا ہے۔۳ پس اس قوم میں داخل ہوناچاہتے ہو تو ان کے نقش قدم پر چلو۔جب تک یہ بات پیدا نہ ہو ایسی آوازوں اور خوابوں پر ناز نہ کرو۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ حدیث میں اضغاث احلام اور ۱ بدر سے۔’’خوابوں کے ذریعہ سے کوئی شخص نجات نہیں پاسکتا۔یہ طریق بُرا نہیں مگر اس کی بد استعمالی نقصاں رساں ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۶) ۲ بدر سے۔’’بیمار کو چاہیے کہ اوّل اپنا علاج کرائے۔اگر ایک بیمار اپنا علاج نہ کرے اور چند قصے سننے لگے تو اس سے وہ اچھا نہ ہوجائے گا۔ایک شخص جو اپنی خراب صحت کے سبب دو چار روز میں مَرنے والا ہے اگر وہ کہے کہ میں امریکہ کی سیر کے واسطے جاتا ہوں تاکہ دنیا کے عجائبات دیکھوں تو یہ اس کی نادانی ہے۔اس کو تو چاہیے کہ اول اپنا علاج کرائے۔جب تندرست ہوجائے تو پھر سیر بھی کر سکتا ہے۔حالت بیماری میں تو سیرو سیاحت اور بھی نقصاں رساں ہوگی۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۶) ۳ بدر سے۔’’ایک کان جو ہزاروں طرف لگا ہوا ہے اور شرک کے ساتھ بھرا ہوا ہے اور جذباتِ نفسانی اور ہوا و ہوس کی متابعت میں پُر ہے وہ کیوں کر خدا تعالیٰ کے کلام کو سن سکتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۶)