ملفوظات (جلد 9) — Page 341
۱۷۰ خدا کے بندے خدا تو نہیں ہوتے لیکن خدا سے جدا بھی نہیں ہوتے۔۱۸۸ خدا تعالیٰ جس قوم کے ساتھ نیکی کا ارادہ کرتا ہے اسے عادل اور نیک بادشاہ عطا فرماتا ہے۔۲۰۷ استاد کی جگہ خالی ہوتی ہے۔۲۱۴ عیسائی ہو جا پھر جو چاہے کر۔۲۲۵ وہ دن آرہا ہے کہ وہ تکلیف سے رہائی پائے۔۲۴۹ تیری زلف کا تصور جمانا کچے آدمیوں کا کام نہیں کیونکہ تیری زلفوں کے سایہ میں آنا چالاکی کا طریقہ ہے۔۲۵۳ جب خدا تیرا ہے تو تجھے کیا غم ہو سکتا ہے۔۲۵۴ اے شخص! جس نے یونانیوں کی حکمت پڑھی ہے، ایمان والوں کی حکمت بھی پڑھ۔۲۵۸ تو اپنے نصیبہ کا پھل خوب کھائے گا بشرطیکہ میرا دوست بن جائے۔۲۶۴ اے سعدی! اگرچہ وطن کی محبت (کا جزو ایمان ہونا ) صحیح حدیث ہے لیکن محض اس لئے کہ میں یہاں پیدا ہوا تھا تنگ دستی سے مَرا نہیں جاتا۔۲۸۰ تو خدا کا طالب بھی بنتا ہے اور حقیر دنیا کا بھی، یہ محض وہم ہے، ناممکن ہے، دیوانگی ہے۔۲۸۰ بے ثبات زندگی پر بھروسہ نہ رکھو زمانہ کی چالوں سے بے فکر مت رہو۔۲۸۰ موت کا دن تو مخفی ہوتا ہے۔بہتر یہی ہے کہ مَرنے کے دن میرا محبوب اورمیرا معشوق میرے پاس ہو۔۳۰۶ شروع میں عشق بہت منہ زور اور خونخوار ہوتا ہے تا وہ شخص جو صرف تماشائی ہے بھا گ جائے۔