ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 339

نہیں کرتا کہ نعوذ باللہ میں خدا کا بیٹا ہوں بلکہ ایسا دعویٰ کرنا کفر سمجھتے ہیں اور ایسے الفاظ جو انبیاء کے حق میں خدا تعالیٰ نے بولے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑا عزّت کا خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا قُلْ يٰعِبَادِيَ (الزمر:۵۴) جس کے معنے ہیں کہ اے میرے بندو! اب ظاہر ہے کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے بندے تھے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے۔اس فقرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ کا اطلاق استعارہ کے رنگ میں کہاں تک وسیع ہے۔کشمیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ابو سعید عرب صاحب جو حال میں کشمیر کی سیاحت سے واپس آئے ہیں۔انہوں نے حضرت اقدس (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کی کہ کشمیر کے اندر عام لوگ تو اب تک حضرت عیسٰیؑ کی قبر کو پہلے کی طرح نبی صاحب کی قبر یا عیسٰیؑ کی قبر کہتے ہیں مگر وہاں کے علماء جو اس سلسلہ احمدیہ کے حالات سے آگاہ ہوگئے ہیں۔انہوں نے بسبب عداوت اب ایسا کہنا چھوڑ دیا ہے تاکہ اس فرقہ کو مدد نہ ملے۔حضرت نے فرمایا۔اب ان لوگوں کی ایسی کارروائیوں سے کیا بنتا ہے جبکہ پرانی کتابیں جو کشمیر میں اور دوسری جگہوں میں موجود ہیں اور ایک عربی پرانی کتاب گیارہ سو برس کی جو کسی فاضل شیعہ کی تصنیف ہے۔اس میں یُوز آسف کو شاہزادہ نبی لکھا ہے اور اس کی قبر کشمیر میں بتلائی ہے اور اس کا وقت بھی وہی لکھا ہے جو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وقت تھا۔عیسائی بھی تو یہاں تک قائل ہوگئے ہیں کہ وہ حضرت عیسٰیؑ کا حواری تھا اور اس کے نام پر سِسلی میں ایک گرجا بھی بنا ہوا ہے۔لیکن اب سوال یہ ہےکہ وہ حواری کون تھا جو شہزادہ بھی کہلایا ہو اور نبی بھی کہلایا ہو؟ اس کا جواب عیسائی نہیں دے سکتے۔۱