ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 315

نہیں ملا کرتا جو لوگ ایک ہی پہلو پر زور دئیے جاتے ہیں اور ابتلاؤں اور آزمائشوں میں صبر کرنا نہیں چاہتے۔اندیشہ ہے کہ وہ دین ہی چھوڑ دیں جیسے کہ شیعہ لوگ ہیں کہ اس حقیقت کو دیکھتے نہیں جو امتحانوں اور آزمائشوں کے بعد حاصل ہوا کرتی ہے اور نہ ہی اس کی پروا کرتے ہیں مگر سیاپا لگا تار کئے جاتے ہیں اور چھوڑنے میں نہیں آتے۔کیا امام حسینؓ نے انہیں وصیت کی تھی کہ میرے بعد میرا سیاپا کرتے رہنا؟ یاد رکھو جتنے اولیاء اللہ اور مقرب لوگ گذرے ہیں۔ان کے بڑے بڑے تلخ امتحان ہوئے ہیں اور جو پہلوں کا حال ہے وہ آنے والوں کے لیے ایک سبق ہے۔یہ تو بڑی غلطی ہے کہ ایک طرف تو انسان چاہے کہ ہر طرح کی آسودگی اور آرام ہو اور خوشنودی کے سب سامان مہیا ہوں اور دوسری طرف مقرب اللہ بھی بن جاوے۔یہ تو ایسا مشکل ہے جیسے اونٹ کا سوئی کے نکّے میں سے گذر جانا بلکہ اس سے بھی ناممکن۔جب تک ابتلاؤں اور امتحانوں میں انسان پورا نہ اترے کچھ نہیں بنتا۔۱ بلا تاریخ چند سوالات کے جوابات ایک شخص نے حضرت اقدس کی خدمت بابرکت میں چند سوال پیش کئے جو بمع جواب ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔سوال نمبر۱۔زردشت نبی تھا یا نہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایا۔ہم تو یہی کہیں گے کہ اٰمَنْتُ بِاللہِ وَ رُسُلِہٖ ۲ خدا کے کل رسولوں۳ پر ہمارا ایمان ہے مگر ۱الحکم جلد ۱۱ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۴؍اکتوبر۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱ نیز بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ ۲بدر میںلکھا ہے۔’’ اٰمَنْتُ بِاللہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ‘‘(بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۸) ۳بدر میں لکھا ہے۔’’خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۸)