ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 314

والے لوگ مشرک ہوتے ہیں۔آخر خدا کی طرف قدم اٹھانے اور حقیقی طور پر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ(الفاتـحۃ:۶) والی دعا مانگنے کے یہی معنے تو ہیں کہ خدایا! وہ راہ دکھا جس سے تو راضی ہو اور جس پر چل کر نبی کامیاب اور بامراد ہوئے۔آخر جب نبیوں والی راہ پر چلنے کے لیے دعا کی جاوے گی تو پھر ابتلاؤں اور آزمائشوں کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے اور ثابت قدمی کے واسطے خدا سے مدد طلب کرتے رہنا چاہیے۔جو شخص یہ چاہتا ہے کہ صحت و عافیت بھی رہے۔مال و دولت میں بھی ترقی ہو اور ہر طرح کے عیش و عشرت کے سامان اور مالی اور جانی آرام بھی ہوں۔کوئی ابتلا بھی نہ آوے اور پھر یہ کہ خدا بھی راضی ہو جاوے وہ ابلہ ہے وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔جن لوگوں پر خدا راضی ہوا ہے ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوا ہے کہ وہ طرح طرح کے امتحانوں میں ڈالے گئے اور مختلف مصائب اور شدائد سے ان کا سامنا ہوا۔حضرت ابراہیمؑ پر دیکھو کیسا نازک ابتلا آیا تھا اور پھر اس کے بعد سب نبیوں کے ساتھ یہی معاملہ رہا۔یہاں تک کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آگیا۔دیکھو ان کو پیدا ہوتے ہی یتیمی کا سامنا ہوا۔یتیمی بھی تو بُری بَلا ہے خدا جانے کیا کیا دکھ اٹھائے اور پھر دعویٰ کرتے ہی مصیبتوں کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔یاد رکھو! انبیاء کا دوسرا نام اہلِ بَلا و اہلِ ابتلا بھی ہے۔ابتلاؤں سے کوئی نبی بھی خالی نہیں رہا۔ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے تھے اور پھر انبیاء کو تو رہنے دو۔امام حسینؓ کو دیکھو کہ ان پر کیسی کیسی تکلیفیں آئیں۔آخری وقت میں جو ان کو ابتلا آیا تھا کتنا خوفناک ہے۔لکھا ہے کہ اس وقت ان کی عمر ستاون برس کی تھی اور کچھ آدمی ان کے ساتھ تھے۔جب سولہ یا سترہ آدمی ان کے مارے گئے اور ہر طرح کی گھبراہٹ اور لاچاری کا سامنا ہوا تو پھر ان پر پانی کا پینا بند کر دیا گیا۔اور ایسا اندھیر مچایا گیا کہ عورتوں اور بچوں پر بھی حملے کئے گئے اور لوگ بول اٹھے کہ اس وقت عربوں کی حمیت اور غیرت ذرا بھی باقی نہیں رہی۔اب دیکھو کہ عورتوں اور بچوں تک بھی ان کے قتل کئے گئے اور یہ سب کچھ درجہ دینے کے لیے تھا۔جاہل تو کہیں گے کہ وہ گنہگار اور بد اعمال تھے اس لیے ان پر یہ تکلیف آئی مگر ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ آرام سے کوئی درجہ