ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 274

مگر یہ کہتے ہیں کہ اس کی تمام جماعت پاش پاش ہوجاوے گی اور یہ خود بھی طاعون سے ہلاک ہوجائے گا۔توفّی کے معنی فرمایا۔ایک دفعہ دلی میں تین شخص ہمارے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا تھا کہ تم دعویٰ کرتے ہو کہ مسیح ناصری فوت ہوچکا اور آنے والا مسیح میں ہوں اور توفّی کے معنے قبض روح کے کرتے ہو حالانکہ اس کے معنے پورا کرنے کے بھی ہیں اور اس کی تائید میں یہ مصرع پڑھ کر سنایا۔تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَا ضَـمِنَتْ۔میں نے جواب دیا کہ مولوی بن کر مفسر بن کر ایسی بات کرنی؟ بھلا یہ تو پہلے بتلاؤ کہ یہ صیغہ کاہے کا ہے۔بس پھر تو یہی کہنے لگ گیا۔جی غلطی ہوگئی۔(توفّی کے معنے پورا دینے کے وہاں ہوں گے جہاں باب تفعیل میں ہوگا اور قبض روح کے معنے وہاں ہوں گے جہاں باب تفعّل سے ہوگا۔) میر کرامت علی خان دہلوی کا عقیدہ فرمایا۔عجیب بات یہ ہے کہ ہمیں تو ردّ کر دیا اور ایک عیسائی کو مسیح بنا دیا۔امید ہے کہ یہ ایک ہنسی ٹھٹھا کی پیشگوئی ثابت ہوگی۔ورنہ ایک مسلمان کا ایسے شخص کو مسیح قرار دینا جو انسان کی پرستش کرتا اور انسان کو خدا بناتا اور مسلمانوں کے نزدیک کفر کا عقیدہ رکھتا ہے نیک نیتی پر مبنی نہیں ہو سکتا۔محض ہنسی ٹھٹھا معلوم ہوتا ہے۔حضور کے متعلق ہلاکت کی پیشگوئیاں کرنے والوں کا انجام فرمایا۔طاعون تو ابھی سر پر ہے۔یہ کوئی صحیح فیصلہ تو نہیں کہ اب طاعون دور ہوگئی ہے۔یاد رکھو کہ مفتری کو خدا تعالیٰ بے سزا کبھی نہیں چھوڑتا۔ابھی تو طاعون کی نسبت گورنمنٹ خود بھی حیران ہے کہ اس کو روکنے کی کیا تدبیر کی جاوے اور اس طرف خدا تعالیٰ نے ہمیں بھی خبر دے رکھی ہے کہ اس سال یا اگلے سال سخت طاعون پڑے گی اور شدت سے پڑے گی اور مغربی ممالک میں بھی خطرناک طاعون پڑے گی اور کابل کی نسبت طاعون تو نہیں