ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 273

خوشنودی کے چند الہامات فرمایا۔کئی دنوں سے ابتلاؤں کا سامنا تھا۔بیس پچیس دن رات تو میں سویا بھی نہیں۔آج ذرا سی میری آنکھ لگ گئی تو یہ فقرہ الہام ہوا۔’’خدا خوش ہوگیا‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کریم اس بات سے بہت خوش ہوا ہے کہ اس ابتلا میں میں پورا اترا ہوں اور اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ اس ابتلا میں تو پورا اترا۔اس کے بعد پھر آنکھ لگ گئی تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت خوشخط خوبصورت کاغذ میرے ہاتھ میں ہے جس پر کوئی پچاس ساٹھ سطریں لکھی ہوئی ہیں۔میں نے اس کو پڑھا ہے مگر اس میں سے یہ فقرہ مجھے یاد رہا ہے کہ ’’یَا عَبْدَ اللہِ اِنِّیْ مَعَکَ ‘‘ یعنی اے خدا کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں اور اس کو پڑھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ گویا خدا کو دیکھ لیا۔دیکھو ہمارے ساتھ تو خدا کےیہ معاملے ہیں اور یہ ہیں جو ہماری ہلاکت کی پیشگوئیاں کرتےہیں۔اگر خدا کو اپنے دین کا بیڑا غرق کر دینا منظور ہے تو جو چاہے سو کرے۔اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔مگر یہاں تو اس نے بڑے بڑے وعدے دیئے ہوئے ہیں۔ایک طرف خدا تو یہ فرماتا ہے وَلَکَ نُرِیْٓ اٰیَاتٍ وَّ نَـھْدِمُ مَا یَعْمُرُوْنَ۔اُرِیْـحُکَ وَلَا اُجِیْحُکَ وَ اُخْرِجُ مِنْکَ قَوْمًا۔اَنْتَ الشَّیْخُ الْمَسِیْـحُ الَّذِیْ لَا یُضَاعُ وَقْتُہٗ۔کَمِثْلِکَ دُرٌّ لَّا یُضَاعُ۔لَکَ دَرَجَۃٌ فِی السَّمَآءِ وَ فِی الَّذِیْنَ ھُمْ یُبْصِـرُوْنَ۔(یعنی میں تجھے آرام دوں گا اور تیرا نام نہیں مٹاؤں گا اور تجھ سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا اور تیرے لیے ہم بڑے بڑے نشان دکھلا دیں گے اور ہم ان عمارتوں کو ڈھا دیں گے جو بنائی جاتی ہیں۔۱ تو وہ بزرگ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیںکیا جائے گا اور تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا۔آسمان پر تیرا بڑا درجہ ہے اور نیز ان لوگوں کی نگاہ میںجن کو آنکھیں دی گئی ہیں۔) ۱ یہ فقرہ کہ ’’تیرے لیے ہم بڑے بڑے نشان دکھلا دیں گے اور ہم ان عمارتوں کو ڈھا دیں گے جو بنائی جاتی ہیں۔‘‘ ترجمہ کی ترتیب کے لحاظ سے سب سے پہلے ہونا چاہیے۔معلوم ہوتا ہے کہ کاتب نے غلطی سے بعد میں لکھ دیا ہے۔دراصل یہ الہامی عبارت کے پہلے فقرہ کا ترجمہ ہے۔(مرتّب)