ملفوظات (جلد 9) — Page 250
انبیاء کا ہی گروہ ایسا گروہ ہوتا ہے کہ وہ بے سلسلہ چلتے ہی نہیں۔جو لوگ انبیاء کی زندگی میں فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں اور عاقبت کی کچھ فکر نہیں کرتے اور راستبازوں پر حملے کرتے ہیں ایسوں ہی کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا(الشمس:۱۶) اس سے مراد یہ ہے کہ جب ایک موذی بے ایمان کو اللہ کریم مارتا ہے تو پھر کچھ پروا نہیں رکھتا کہ اس کے عیال اطفال کا گذارہ کس طرح ہوگا اور اس کے پسماندہ کیسی حالت میں بسر کریں گے؟ ستاروں کا ٹوٹنا ایک شخص نے ستاروں کے ٹوٹنے کی نسبت سوال کیا۔فرمایا۔جہاں تک پتا لگ سکتا ہے۔مفسرین یہی لکھتے ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ سے پہلے بہت ستارے ٹوٹے تھے اور یہاں بھی شاید ۱۸۸۵ء میں ہمارے دعویٰ سے پہلے بہت سے ستارے ٹوٹے تھے۔ایک لشکر کا لشکر اِس طرف سے اُس طرف چلا جاتا تھا اور اُس طرف سے اِس طرف چلا آتا تھا۔وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى (النجم:۲)کا بھی یہی مطلب ہے۔جب کبھی خدا تعالیٰ کا کوئی نشان زمین پر ظاہر ہونے والا ہوتا ہے تو اس سے پہلے آسمان پر کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں۔بڑے بڑے مفسر اور اہل کشف بھی یہی بیان کرتے ہیں اور قرآن شریف میں بھی یہی لکھا ہے۔مجھے ایک خط آیا تھا کہ ’’ایک ستارہ ٹوٹا جس سے بہت روشنی ہوگئی اور پھر ایسی خطرناک آواز آئی کہ لوگ دہشت ناک ہوگئے اور بڑا خوف ہوا‘‘ اور پھر نہیں معلوم کہ آئندہ ابھی کیا کیا ہونے والا ہے؟ آئے دن نئے نئے حوادث ہوتے رہتے ہیں۔کوئی سال ایسا نہیں گذرتا جس میں کوئی نہ کوئی حادثہ واقع نہ ہو۔ستاروں کا ٹوٹنا ظاہر کرتا ہے کہ زمین پر بھی اب کچھ نشانات ظاہر ہونے والے ہیں اور پھر خدا نے بھی مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ میں بہت سے عجیب نشان ظاہر کروں گا کچھ اوّل میں اور کچھ آخر میں۔زلزلہ کی خبر بھی اس نے دی ہے۔گذشتہ کی نسبت زیادہ سخت طاعون پڑنے کی بھی اطلاع دی ہے۔معلوم نہیں کہ اس سال وہ خطرناک طاعون پڑے گی یا آئندہ سال میں مگر وہ خطرناک بہت ہوگی۔