ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 243

نشان بڑی چیز ہے ساری جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جن باتوں کا اعتراض عیسائی، آریہ اور دوسرے مخالفین اس وقت تک اسلام پر کرتے ہیں اور بے سمجھی سے الزام لگاتے ہیں اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ پھر انہیں باتوں کو از سر نو تازہ کیا جاوے؟ کیا خدا کے پاس اپنے رسول کی نصرت کے لیے اور کوئی ہتھیار نہیں۔ان ہتھیاروں کی چوٹ تو جسم پر لگتی تھی مگر اس جگہ قلب پر لگتی ہے۔ایک ہی نشان ہزاروں اعتراضوں کو دور کر سکتا ہے۔ایک نکتہ مرتد ڈاکٹر نے مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور بابو محمد افضل مرحوم کی موت کا باعث اپنی تفسیر کی مخالفت قرار دیا ہے۔اس پر منشی احمد دین صاحب اپیل نویس گوجرانوالہ نے ایک عجیب نکتہ بیان کیا کہ ’’ڈاکٹر صاحب خود بھی تو اپنی تفسیر کے مخالف ہوگئے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کا دعویٰ حضرت اقدس نے فرمایا۔جو شخص اپنے آپ کو مسیح سمجھتا ہے، رسول سمجھتا ہے۔رحمۃ للعالمین ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ہم عبد الحکیم سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا کبھی ایسا بھی اتفاق ہوا ہے کہ ایسا شخص بیس برس تک دجّال کا مرید رہا ہو؟ یہ اس کی کون سی شامت اعمال ہے اور کون سے بُرے کرم اس نے کئے ہیں جو دجّال کی بیعت رہا؟ اس قدر ذلّت اور رسوائی اٹھائی کہ بیس برس تک شیطان کا مرید رہا۔جب سے دنیا پیدا ہوئی اس کی نظیر تو پیش کرو کہ ایک شخص مسیح بھی ہو، رسول بھی ہو اور پھر بیس برس تک دجّال کی بیعت رہا ہو۔عدم تصنّع اور سادگی کا ثبوت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے متعلق فرمایا کہ وہ ہمارا ایک پرانا تقلیدی خیال تھا اور رسمی طور پر براہین احمدیہ میں لکھا گیا تھا اور یہ بات کہ مسیح ناصری فوت ہوگیا ہے اور آنے والا مسیح میں ہوں خدا کی وحی سے ہے اور خدا کا الہام ہے۔جس براہین میں یہ لکھا ہے کہ عیسیٰ آسمان پر چلا گیا۔اسی میں یہ بھی لکھا ہے اور واضح طور پر لکھا ہے کہ میں مسیح ہوں۔جیسے يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَوغیرہ۔اگر یہ انسانی کاروبار اور بناوٹی منصوبہ ہوتا تو یہ ظاہراً تناقض کیوں ہوتا؟ اگر تقویٰ ہو اور تھوڑا بہت انصاف ہو تو ایک طرف