ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 216

براہین احمدیہ کی میں لکھ چکا تھا اور اس وقت تک مجھے خبر نہ تھی جبکہ یکدفعہ یہ الہام ہوا اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ قُلْ اِنِّيْۤ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ۔اسی براہین احمدیہ میں ہم نے یہ الہام بھی درج کیا ہے کہ يَاعِيْسٰٓى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ اور اسی میں ہم نے حضرت عیسٰیؑ کے متعلق اپنا وہی عقیدہ پیش کیا ہے جو پرانا عقیدہ تھا کہ مسیح آسمان پر ہے۔اس سے دیکھنے والے کے واسطے یہ اَمر ظاہر ہے کہ اگر ہم تصنّع اور بناوٹ سے کوئی کام کرتے اور افترا کے ساتھ یہ باتیں بناتے تو ہم ایسا کیوں کرتے۔جو شخص افترا کرنے لگتا ہے وہ تو اول ہی سب پہلو سوچ لیتا ہے۔اس میں بھی خدا تعالیٰ کی ایک مصلحت تھی کہ ہم نے ایسا لکھ دیا تاکہ ہماری سچائی پر ایک دلیل قائم ہوجائے۔پہلے سے ہی براہین کے اندر ایک تناقض ہوگیا۔اور ہم خود بھی اس تناقض کو نہ سمجھ سکے۔یہ خدا تعالیٰ کی ایک بڑی حکمت تھی۔نشانات کا ظہور فرمایا۔گذشتہ دنوں میں خدا تعالیٰ بہت سے نشانات دکھا چکا ہے جن میں سے بعض کتاب حقیقۃ الوحی میں بھی درج ہو چکے ہیں مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر کسی اور نشان کی تیاری ہو رہی ہے تاکہ ایمانداروں کے ایمان اور قوی ہوجاویں۔ہر ایک نشان جو ظاہر ہوتا ہے اس سے لوگوں کے ایمان قوی ہوتے ہیں کیونکہ نشان کے ذریعہ سے ایک انکشاف تام ہوجاتا ہے جب آدمی اچھی طرح سے معلوم کر لیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کس بات میں راضی ہے اور کس دین کے حق میں وہ اپنے نشانات زبردست دکھاتا ہے۔تب انسان اس دین کو سچے دل سے قبول کرتا ہے اور اخلاص کے ساتھ اس کی خاطر ہر ایک تکلیف کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے نشانات کے ذریعہ سے تکمیل ایمان ہوتی ہے۔جماعت کے واسطے خدا تعالیٰ نے یہ ایک عمدہ راہ نکالی ہے۔جب خدا کی فرمائی ہوئی باتیں پوری ہوتی ہیں تو دل کو سرور اور خوشی ہوتی ہے۔انسان خدا تعالیٰ کے فضل سے سیراب ہوجاتا ہے اور اس کا یقین بڑھتا ہے کہ اس سلسلہ کے اختیار کرنے میں میں نے کوئی غلطی نہیں کھائی۔مگر یہ مت خیال کرو کہ غلطی کے نہ کھانے میں تمہاری کوئی بہادری ہے۔ہرگز نہیں۔یہ بھی خدا تعالیٰ کا ایک فضل ہے کہ تم نے غلطی نہیں کھائی ورنہ بڑے بڑے