ملفوظات (جلد 9) — Page 215
یکم اگست ۱۹۰۷ء صادق کا دعویٰ پہلے ہوتا ہے اور کاذب کا بعد میں تازہ الہام الٰہی اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کا ذکر تھا۔فرمایا کہ قریب العہد اہانت کرنے والا تو ڈاکٹر عبد الحکیم ہے جس نے بہت اہانت کے لفظوں میں ایک خط لکھا ہے اور ہماری موت کے متعلق پیشگوئی کی ہے۔یہ وحی الٰہی پہلے بھی بہت بار نازل ہوچکی ہے۔مگر ہربار اس کا شانِ نزول جدید ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کی مخالفت سے رنجیدہ خاطر نہیں ہونا چاہیے۔ضرور تھا کہ ایسے لوگ بھی پیدا ہوتے تاکہ صادق اور کاذب کے درمیان ایک فرق ہوجائے۔سب انبیاء کے وقتوں میں ایسے مخالف ہوتے چلے آئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایسے آدمی موجود تھے۔مگر اس قسم کے لوگ ہمیشہ بعد میں آتے ہیں۔شروع میں صادق ہی ظاہر ہوتا ہے۔پھر اس کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی ریس کرتے ہیں۔اس میں خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ اچھی طرح سے شائع نہ ہوگیا۔تب تک کوئی آدمی ایسا پیدا نہ ہوا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تاکہ کوئی ایسا نہ کہہ سکے کہ اس شخص نے فلاں شخص کی ریس کر کے دعویٰ نبوت کر دیا ہے۔ایسا ہی اس زمانہ میں مطلق خاموشی تھی۔کوئی شخص خدا سے وحی پانے کا اور مسیح موعود ہونے کا مدعی نہ تھا ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے ہم پر اپنی وحی نازل کر کے ہمیں مسیح موعود بنایا۔یہ اَمر بھی منہاجِ نبوت میں داخل ہے کہ صادق کادعویٰ اوّل ہو اور کاذب پیچھے ہوں۔اور لوگوں کی بےخبری کے علاوہ ہم تو خود بھی بے خبر تھے۔اپنے طور پر میری عادت تھی کہ غیر مذاہب کے برخلاف اخبارات میں مضامین دیتا تھا اور اسلام کی صداقت کے ظہور میں کوشاں رہتا تھا۔ان ایام میں ایک عیسائی کا اخبار سفیر ہند نام نکلا کرتا تھا اور ایک برہموؤں کا رسالہ بنام برادر ہند شائع ہوتا تھا۔ان ہر دو میں بعض مضامین میں نے لکھے تھے مگر ان مضامین میں ہمارا مطلب صرف عقلی دلائل کے پیش کرنے کا ہوتا تھا اور وحی الٰہی اور نشانات کے دکھانے کا کوئی خیال نہ تھا۔دو جلدیں