ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 204

حضرت نے فرمایا کہ صحت عمدہ شَے ہے تمام کاروبار دینی اور دنیاوی صحت پر موقوف ہیں۔صحت نہ ہو تو عمر ضائع ہو جاتی ہے۔۱ کیا آنحضرتؐکا سایہ نہ تھا جھانسی سے ایک دوست کا خط حضرت کی خدمت میں آیا جس میں یہ دریافت کیا گیا تھا کہ ’’پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم‘‘کا سایہ تھا یا کہ نہیں بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ سایہ حضور پُر نور کا زمین پر نہیں گرتا تھا۔‘‘ اس خط کے جواب میں حضرت نے تحریر فرمایا۔یہ اَمر کسی حدیث صحیح سے ثابت نہیں ہوتا اور نہ کسی ثقہ مورخ نے لکھا ہے جو معجزات محدثین نے اپنی کتابوں میں جمع کئے ہیں ان میں اس کا ذکر نہیں۔مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ۲ سر سید لیڈر نہ تھا ایک شخص نے ذکر کیا کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان دو شخص قومی لیڈر ہوئے ہیں اور ہندوؤں کے درمیان ایک۔ہندوؤں کے درمیان دیانند تھا۔اس کی تعلیم کے نتیجہ میں گورنمنٹ کے متعلق جو خیالات ہندوؤں کے بن گئے ہیں وہ ظاہر ہیں۔مسلمانوں کے دو لیڈر ہوئے۔سر سید اور حضرت مرزا صاحب ہر دو کی جماعت ایسی ہوئی جو کہ گورنمنٹ کی سچی خیر خواہ ہے۔حضرت نے فرمایا۔یہ درست ہے کہ سر سید کے کالج میں جو طلباء پڑھتےہیں یا جو لوگ ان کے ہم خیال ہیں وہ گورنمنٹ کی نسبت عمدہ خیال رکھتےہیں لیکن اصل میں سر سید نے کوئی مذہبی جماعت نہیں بنائی اور نہ خود سر سید کوئی قومی امام لیڈر تھا بلکہ اس کے پاس اہل الرائے کا ایک مجمع تھا جو کہ بعض باتوں میں سر سید کے ساتھ متفق تھے اور بعض میں مخالف بھی تھے۔برخلاف اس کے یہ سلسلہ خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے اور مجھے اس جماعت کا امام مقرر کیا ہے یہ ایک مذہبی جماعت ہے جو ہر ایک بات ۱ بدر جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۶ ۲بدر جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۰۷ءصفحہ ۴