ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 181

کوئی مسئلہ نہیں ہے۔جس دین کی تعلیم عمدہ ہے جس دین کی سچائی ظاہر کرنے کے لیے خدا نے معجزات دکھلائے ہیں اور دکھلا رہا ہے ایسے دین کو جہاد کی کیا ضرورت ہے اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ظالم لوگ اسلام پر تلوار کے ساتھ حملے کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ اسلام کو تلوار کے ذریعہ سے نابود کر دیں۔سو جنہوں نے تلواریں اٹھائیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے گئے۔سووہ جنگ صرف دفاعی جنگ تھی۔اب خواہ نخواہ ایسے اعتقاد پھیلانا کہ کوئی مہدی خونی آئے گا اور عیسائی بادشاہوں کو گرفتار کرے گا یہ محض بناوٹی مسائل ہیں جن سے ہمارے مخالف مسلمانوں کے دل خراب اور سخت ہوگئے ہیں اور جن کے ایسے عقیدے ہیں وہ خطرناک انسان ہیں اور ایسے عقیدے کسی زمانہ میں جاہلوں کے لیے بغاوت کا ذریعہ ہو سکتے ہیں بلکہ ضرور ہوں گے سو ہماری کوشش ہے کہ مسلمان ایسے عقیدوں سے رہائی پاویں۔یاد رکھو کہ وہ دین خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔جس میں انسانی ہمدردی نہیں۔خدا نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ زمین پر رحم کرو تا آسمان سے تم پر رحم کیا جاوے۔والسلام خاکسار میرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ و ایَّد مورخہ ۷؍مئی ۱۹۰۷ء ۱ نرخ اشیاء سوال پیش ہوا کہ بعض تاجر جو گلی کوچوں میں یا بازار میں اشیاء فروخت کرتے ہیں ایک ہی چیز کی قیمت کسی سے کم لیتے ہیں اور کسی سے زیادہ کیا یہ جائز ہے۔؟ فرمایا۔مالک شَے کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کی قیمت جو چاہے لگائے اور مانگے لیکن وقت فروخت تراضی طرفین ہو اور بیچنے والا کسی قسم کا دھوکا نہ کرے مثلاً ایسا نہ ہو کہ چیز کے خواص وہ نہ ہوں جو بیان کئے جاویں یا اور کسی قسم کا دغا خریدار سے کیا جاوے اور جھوٹ بولا جاوے اور یہ بھی جائز نہیں کہ بچے یا ناواقف کو پائے تو دھوکا دے کر قیمت زیادہ لے لے جس کو اس ملک میں ’’لگّا دا ‘‘ لگانا کہتے ہیں۔یہ ناجائز ہے۔۲