ملفوظات (جلد 9) — Page 96
دلائل نہ پیش کئے جاویں وہ انکار کا حق رکھتے ہیں۔ہماری صداقت کے دلائل و حقیت ِاسلام پر ایک مستقل کتاب انگریزی میں چھاپ کر ان کو پیش کی جاوے۔جن باتوں کو ہمارے مخالف مسلمان ان کے آگے پیش کرتے ہیں ان میں بہت غلطیاں ہیں۔مثلاً حیاتِ مسیح، مسئلہ ختم نبوت، مکالماتِ الٰہی کے متعلق اس زمانہ کے مسلمانوں نے سخت غلطی کھائی ہے۔اس کتاب میں ان مسائل کی تنقیح اور ہمارے سلسلہ کے دلائل صداقت لکھے جاویں۔ویب نے ایک چٹھی لکھی کہ جو معجزات اب پیش کئے جاتے ہیں ان پر اب ٹھٹھے کئے جاتے ہیں۔ان سب باتوں کے لیے ایک مستقل کتاب جامع ہو جس میں یہ سب مضمون لکھے جاویں۔۱ ۱۵؍فروری ۱۹۰۷ء الہام کی کیفیت ایک الہام کا ذکر تھا۔فرمایا۔یاد نہیں لیکن لکھا ہوا ہے۔پھر فرمایا۔بعض دفعہ الہام الٰہی ایسی سرعت کے ساتھ ہوتا ہے جیسا کہ ایک پرندہ پاس سے نکل جاتا ہے اور اگر اسی وقت لکھ نہ لیا جاوے یا اچھی طرح سے یاد نہ کر لیا جاوے تو بھول جانے کا خوف ہوتا ہے۔ایک الہام آج کی وحی الٰہی ’’اس ہفتہ میں کوئی باقی نہ رہے گا‘‘۲ کے متعلق فرمایا کہ ابھی ٹھیک طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اس الہام میں ہفتہ سے کیا مراد ہے اور یہ کس کے متعلق ہے۔حضرت مولوی نور الدین صاحب نے عرض کیا کہ بعض اس قسم کے الہامات کسی خاص مکان اور خاص زمانہ کے متعلق ہوتے ہیں۔فرمایا۔درست ہے۔دانیال کی کتاب میں صدہا سال کو ہفتہ کہا گیا ہے اور دنیا کی عمر بھی ایک ہفتہ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۸ مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۷ء صفحہ ۹ ۲ الحکم میں یہ الہام یوں درج ہے ’’ایک ہفتہ تک ایک بھی باقی نہیں رہے گا‘‘ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۷ مورخہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱)